Home / Articles / تطہیر قلب اور اس کے ذرائع

تطہیر قلب اور اس کے ذرائع

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ہم سب جانتے ہیں اور ہر وقت ہمارا مشاہدہ اور تجربہ ہوتا رہتاہے کہ کسی بھی مشین میں اس کے ایک پرزے کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے، جو دیگر پرزوں کو حاصل نہیں ہوتی۔ یوں تو اس مشین کے تمام پرزے اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں۔ ہر ایک کا جو فنکشن (وظیفه )ہوتا ہے اسے وہ کماحقہ انجام دے تبھی مشین صحیح طریقے سے کام کرتی ہے، لیکن موقع و محل، بناوٹ اور سروس(کاركردگی) کے اعتبار سے تمام پرزوں کی یکساں اہمیت نہیں ہوتی۔ کوئی کم اہم اور کوئی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے اس پرزے کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے جو اصلاً مشین کو چلاتا اور حرکت دیتا ہے، جو اگر کام کرنا بند کردے یا سست پڑ جائے تو وہ مشین بے کار ہوجاتی ہے، چاہے اس کے تمام پرزے درست ہوں اور اپنی جگہ صحیح کام کررہے ہوں۔

گھڑی کو لے لیجیے۔ یوں تو اس کے تمام پرزے اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں،  لیکن سب سے زیادہ اہمیت سیل کو حاصل ہوتی ہے۔ گھڑی میں سیل نہ ہو تو وہ حرکت نہیں کرسکتی، چاہے اس کے تمام پرزے درست ہوں،  سیل کم زور ہو تو گھڑی کی رفتار سست ہوجاتی ہے اور اس سے صحیح وقت معلوم نہیں ہوسکتا۔ آٹو موبائلس (اسکوٹر، موٹر سائیکل، کار، بس، ٹرک وغیرہ) کو لیجیے۔ ان میں سب سے زیادہ اہمیت انجن کو حاصل ہوتی ہے۔ انجن میں کوئی خرابی آجائے تو پہیے رک جاتے ہیں۔ انجن پاور فل (قوی) نہ ہو تو اس کا اثر رفتار پر پڑتا ہے۔ گاڑی سے صحیح طریقے سے کام لینا ہے توضروری ہے کہ انجن پر توجہ دی جائے اور اسے درست حالت میں رکھا جائے۔

یہی پوزیشن انسانی جسم میں دل کو حاصل ہے۔ دل صحیح طریقے سے کام کررہا ہو اور اس کی دھڑکن مضبوط اور متواتر ہو تو جسم کے تمام اعضاء وجوارح اپنے افعال صحیح طریقے سے انجام دیتے ہیں،  لیکن اگر دل کی کارکردگی کسی مرض کی وجہ سے متاثر ہوجائے تو اس کا اثر پورے جسم پر پڑتا ہے اور طبیعت اضمحلال کا شکار ہوجاتی ہے۔

دل كی دینی اهمیت:

ایک طویل حدیث میں،  جو صحاح ستہ میں آئی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال وحرام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مشتبہ امور سے دور رہنے اور دین و ایمان کی حفاظت کرنے کی تاکید کی تو آخر میں یہ بھی فرمایا:

اَلاَ وَاِنَّ فِی الجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ کُلُّہُ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ کُلُّہُ، اَلاَ وَہِیَ القَلْبُ۔(بخاری: ۵۲، مسلم: ۱۵۹۹)

’’ سن لو! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر وہ درست ہو تو پورا بدن درست رہتا ہے اور اگراس میں کوئی خرابی آجائے تو پورے بدن میں خرابی آجاتی ہے۔ سن لو! وہ دل ہے۔‘‘

دل ایک حالت پر نہیں رہتا۔ اس کی کیفیات بدلتی رہتی ہیں۔ اس سے خیر کا بھی صدورہوسکتا ہے اور شر کا بھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے اور اس کی تدابیر بھی اختیار کرنی چاهییں کہ دل کی سلامتی قائم رہے، وہ خیر کی آماج گاہ بنا رہے اور اس کے اثر سے اعضاء و جوارح سے اعمال صالحہ کا صدور ہوتا رہے۔ اگر دل میں کچھ فساد پیدا ہوگیا،  اس کو کچھ کدورت لاحق ہوگئی تو انسان کی دینی و اخلاقی موت کا اندیشه ہے۔ ایک حدیث حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان قلوب بنی آدم کلہا بین اصبعین من أصابع الرحمٰن کقلبٍ واحدٍ یصرفہ کیف یشاء۔(مسلم: ۲۶۵۴)

’’ تمام بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ وہ انھیں جس طرح چاہتا ہے الٹتا پلٹتا ہے۔‘‘

اسی بات کو ایک دوسری حدیث میں بڑی لطیف تشبیہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انّ ہذا القلب کریشۃٍ بفلاۃٍ یقیمہا الریح ظہراً البطن۔ (احمد: ۱۹۷۵۷)

’’ دل کی حالت اس پَر کی مانند ہوتی ہے تو صحرا میں پڑا ہو اور آندھی اسے الٹتی پلٹتی رہتی ہو۔‘‘

        اسی بات کو قرآن مجید میں ان الفاظ میں تعبیر کیا گیا ہے:

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ، وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ۔ (الانفال: ۲۴)

(اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو، جب کہ رسول تمھیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔)

اس کا مطلب یہ نہیں کہ دل کی کیفیات کی تبدیلی میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان کا اندازِ فکر، رویّہ، مشغولیات اور سرگرمیاں اس کے دل پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اس کی کیفیات کو تبدیل کرتی ہیں۔ اور چوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق ہوتا ہے اس لیے اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی گئی ہے۔

حدیث میں کہاگیا ہے کہ جب بھی انسان کسی برائی کا ارتکاب کرتاہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ پڑ جاتا ہے۔ برائیوں کا ارتکاب اس دھبے کو بڑھاتا رہتاہے، یہاں تک کہ پورا دل سیا ہ ہوجاتاہے، اس میں کجی پیدا ہوجاتی ہے،انسان اپنی خواہشات کا بندہ بن جاتا ہے، وہ کسی نیکی کے قریب نہیں پھٹکتا اورکسی برائی کو برائی نہیں سمجھتا۔ دوسرا شخص برائیوں سے اپنا دامن بچا کر رکھتا ہے۔ جب فتنوں کی بارش ہورہی ہو اور مسلسل ان کے حملے جاری ہوں تو وہ اپنے دل کو ان سے محفوظ رکھتا ہو،ایسے شخص کی،  برائی سے بچنے کی ہر شعور ی کوشش اس کے دل پر ایک سفید نشان لگا دیتی ہے۔ یہ نشان مسلسل بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پورا دل سفید ہوجاتا ہے۔ پھر کوئی فتنہ اسے نشانہ نہیں بنا پاتا اور کوئی برائی اس کی صفائی کو گدلا اور سفید ی کوداغ دار نہیں کر پاتی۔ (مسلم : ۱۴۴)

دلوں كی قسمیں :

ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوں کی چار قسمیں بیان کی ہیں :(۱)  قلب اجرد، یعنی صاف شفاف دل۔ یہ مومن کا دل ہوتا ہے، اس سے چراغ کی طرح روشنی پھوٹتی ہے۔ (۲)  قلب اغلف، یعنی ڈھکا ہوا دل۔ یہ کافر کا دل ہوتاہے۔ (۳)  قلب منکوس،  یعنی اوندھا دل۔ یہ منافق کا دل ہوتا ہے۔ وہ حق کو جان پہچان کر اس سے منھ موڑ لیتا ہے۔ (۴) قلب مُصْفَح، یعنی مخلوط دل۔ اس میں ایمان اور نفاق دونوں پایا جاتا ہے۔ اس میں ایمان کی مثال اس پودے کی ہوتی ہے جو اچھے پانی سے سیراب ہوکر پروان چڑھتا ہے اور نفاق کی مثال اس زخم کی سی ہوتی ہے جس میں پیپ اور گندے خون کی وجہ سے تعفن پیدا ہوتا رہتا ہے۔ (احمد : ۱۱۱۲۹)

بارگاہ الٰہی میں ’ قلب سلیم‘ مطلوب ہے، یعنی وہ دل جو ہر طرح کی آلائشوں اور گندگیوں سے پاک ہو، جس میں کفر و شرک،  نفاق، معصیت اور فسق و فجور کا شائبہ  نہ ہو۔ روزِ قیامت ایسے ہی دل کی قدر ہوگی۔ اس دن نہ آل و اولاد کام آئیں گے اور نہ مال و دولت سے کچھ نفع پہنچے گا۔ اس دن صرف ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے یہاں باریابی ملے گی جو’ قلب سلیم‘ کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ قرآن مجید میں ہے:

یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لاَ بَنُوْنَ، اِلاَّ مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الشعراء: ۸۸-۸۹)

’’ اس دن نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد، بہ جز اس کے کہ کوئی شخص قلب ِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضورحاضر ہو۔‘‘

ہم میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی اپنے گھر کی صفائی ضرور کی ہوگی۔ دوچار سال کے بعد گھر کے تمام سامان نکال کر صفائی کی جائے تو کیسا کوڑا کرکٹ نکلتا ہے؟ ردی کاغذ، خالی ڈبے، ٹوٹی چپلیں،  پھٹے ہوئے جوتے، ٹوٹے ہوئے بلب کی کرچیاں،   رسّی کے ٹکڑے، پلاسٹک اور شیشے کی شیشیاں۔ یہ سب چیزیں نکال دی جائیں تو گھر صاف ستھرا ہوجاتا ہے اور اسے دیکھ کر بڑی راحت، سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔

صفائی كی ضرورت:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کی پاکیزگی کو ایسی ہی صفائی سے تشبیہ دی ہے۔ ایک مجلس میں ایک شخص نے آپ ؐ سے دریافت کیا:  أیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ؟  (سب سے اچھا انسان کون ہے؟) آپ ؐ نے فرمایا: کل مخموم القلب صدوق اللسان۔ (خُمامۃ عربی زبان میں جھاڑو سے نکالے گئے کوڑا، مٹی، کنکر پتھر کو کہتے ہیں )۔ گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد جو کوڑا کرکٹ اکٹھا ہوتا ہے اسے خمامۃ البیت اور کنویں کی صفائی کرنے پر اس کے اندر سے جو کوڑا، کچڑا، کنکر، پتھر، لکڑی وغیرہ کے ٹکڑے نکلتے ہیں انھیں خُمَامۃ البئرکہا جاتا ہے۔ مخموم سے مراد وہ جگہ ہے جو ہر طرح کی گندگی سے پاک ہو۔ اس حدیث میں آگے ہے کہ صحابۂ کرام نے دریافت کیا : صدوق اللسان کا مطلب تو ہم جانتے ہیں،   یعنی وہ شخص جو ہمیشہ سچ بولتا ہو۔یہ مخموم القلب کا کیا مطلب ہے؟ آپؐ نے فرمایا :

ہو التقیّ النقیّ، لا اثم فیہ و لابغی ولا غلّ ولا حسد۔(ابن ماجہ: ۴۲۱۶)

’’ اس سے مراد وہ متقی،  پاکیزہ شخص ہے جس کے دل میں نہ گنا ہ ہو، نہ باغیانہ رویّہ، نہ کینہ کپٹ، نہ بغض وحسد۔‘‘

گناہ، باغیانہ رویہ، بدگمانی، کینہ، بغض، حسد وغیرہ کی وہی حیثیت ہے جو کنکر پتھر، کیچڑ، کیل، کانٹے وغیرہ کی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ چیزیں فرش کو گندا کردیتی ہیں اسی طرح یہ رذائل اخلاق دل کو پراگندہ کرتے ہیں۔ جو شخص اپنے دل کو ان چیز وں سے پاک کرلے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بہترین انسان ہے۔

دل میں مختلف طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں اور اسے مختلف عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے دلوں کو ان امراض و عوارض سے بچانا ہے اور ان کی پاکیزگی اور طہارت قائم رکھنی ہے۔

دلوں كے امراض:

ایک مرض نفاق ہے۔ قرآن مجید میں لفظ ’مرض‘ اس معنٰی میں متعدد مواقع پر آیا ہے۔

فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مرَضَاً وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ۔ (البقرۃ: ۱۰)

(ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کے لیے دردناک سزا ہے۔)

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْساً اِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَاتُوْا وَہُمْ کَافِرُوْنَ۔ (التوبۃ: ۱۲۵)

(البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا تھا ان کی سابق نجاست پر (ہر نئی سورت نے) ایک اور نجات کا اضافہ کردیا اور وہ مرتے دم تک کفر ہی میں مبتلا رہے۔)

ایک مرض جنسی آوارگی ہے۔ اس معنی میں لفظ ’مرض‘ کا استعمال قرآن مجید میں متعدد مواقع پر ہوا ہے۔

اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلاَ تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعُ الَّذِی فِی قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَ قُلْنَ قَولاً مَّعْرُوْفاً۔ (الاحزاب: ۳۲)

(اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان میں بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔)

لَئِنْ لَّم یَنتَہِ الْمُنٰفِقُونَ وَالَّذِیْنَ فِی قُلُوْبِہِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُوْنَ فِی المَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ ثُمَّ لاَ یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْہَا اِلاَّ قَلِیْلاً۔ (الاحزاب: ۶۰)

(اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں،  اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمھیں اٹھ کھڑا کریں گے، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمھارے ساتھ رہ سکیں گے۔)

ایک مرض ’ قساوت ‘ ہے یعنی سختی۔ جب یہ مرض دل میں پیدا ہوجاتا ہے تو پھر کوئی تذکیر اثر انداز نہیں ہوتی، کوئی تنبیہ کام نہیں آتی، انسان پوری طرح شیطان کی گرفت میں آجاتا ہے، پھر وہی کرتا ہے جو شیطان اسے سجھاتا ہے۔ ’قساوت ِ قلب‘ کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مواقع پر ہوا ہے:

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃٍ۔ (البقرۃ: ۷۴)

(مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخرکار تمھارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرح سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے۔)

وَجَعَلْنَا قُلُوْبَہُمْ قَاسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ۔ (المائدۃ: ۱۳)

(اور ان کے دل سخت کردیے۔ اب ان کاحال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں۔ )

فَلَوْ لاَ اِذْ جَائَ ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوا یَعْمَلُوْنَ۔ (الانعام:۴۳)

(پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انھوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کررہے ہو خوب کررہے ہو۔)

وَلاَ یَکُوْنُوْا کَا لَّذِیْنَ اُوتُو الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَاَلَ عَلَیْہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُہُمْ، وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فَاسِقُوْن۔(الحدید: ۱۶)

(اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنھیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں۔ )

دل كی كجی:

ایک بیماری ’زیغ‘ ہے یعنی دل میں کجی پیدا ہوجاتی ہے، پھر آدمی فتنہ بھڑکاتا ہے اور صریح احکام الٰہی کی الٹی سیدھی تعبیریں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِی قُلُوْبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَآئَ تَاْوِیْلِہٖ۔ (آل عمران: ۷)

(جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہیں وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنٰی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔ )

بسا اوقات دلوں پر ’پردہ ‘ پر جاتا ہے، پھر نہ کوئی بات سمجھ میں آتی ہے اور نہ کسی حکم پر عمل کرنے کا جی چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِی آذَانِہِمْ وَقْراً، وَاِنْ یَرَوْ کُلَّ اٰیَۃٍ لاَّ یُؤمِنُوا بِہَا۔ (الانعام: ۲۵)

(ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے ] کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے [ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے۔)

وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَہُمْ اللّٰہُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیْلاً مَّا یُؤمِنُوْنَ۔ (البقرۃ: ۸۸)

(وہ کہتے ہیں ہمارے دل محفوظ ہیں۔ نہیں،  اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے۔ اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ )

لَہُمْ قُلُوْبٌ لاَّ یَفْقَہُوْنَ بِہَا۔ (الاعراف: ۱۷۹)

(ان کے پاس دل ہیں،  مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ )

صفائی كی تدابیر:

قرآن و حدیث میں جہاں دل کو لاحق ہونے والی بیماریوں اور گندگیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہیں ان کا ازالہ کرنے اور دل کو ان سے پاک و صاف کرنے کی تدابیر بھی بتائی گئی ہیں۔ یہا ان میں سے چندتدابیر کا  تذکرہ کیا جارہا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان ہذہ القلوب تصدأ کما یصدأ الحدید اذا أصابہ الماء۔

(دلوں میں بھی زنگ لگتا ہے، جس طرح لوہے کو پانی لگ جائے تو وہ زنگ آلود ہوجاتا ہے۔)

کتنی لطیف تشبیہ ہے۔ لوہے کی خاصیت ہے کہ اس میں سختی اور پختگی ہو:

قُلْ کُوْنُواحِجَارَۃً اَوْ حَدِیداً اَوْ خَلْقاً مِمّا یَکْبُرُ فِی صُدُوْرِکُمْ۔ (بنی اسرائیل: ۵۰-۵۱)

(ان سے کہو: تم پتھر یا لوہا بھی ہوجاؤ یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمھارے ذہن میں قبولِ حیات سے بعید تر ہو۔)

فلک بوس عمارتیں لوہے کے سہارے قائم رہتی ہیں،  لیکن اگر لوہے میں زنگ لگ جائے تو پھر اس کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی۔ اس کے سہارے ٹکی رہنے والی عمارتیں تاش کے پتوں کی مانند بکھر جاتی ہیں۔ یہی حال دل کا ہوتا ہے۔ مختلف روحانی اور اخلاقی برائیاں زنگ کی مانند ہوتی ہیں،  جب وہ دل کو لگ جاتی ہیں تو اس میں فساد پیدا کردیتی ہیں،  پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی۔

اس حدیث میں آگے ہے کہ صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: دلوں کا زنگ کن تدبیروں سے دور کیا جاسکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔ (بیہقی)

اس حدیث کو ہر وقت اپنے پیش نظر رکھنے اور اس سے نصیحت پکڑنے کی ضرورت ہے۔ موت سے بڑھ کر کوئی واعظ نہیں (کفٰی بالموت واعظاً)

کسی شخص کو نہیں معلوم کہ وہ کتنی مدت ِ حیات لے کر آیا ہے؟ امتحان کا پرچہ کب اس کے ہاتھ سے چھین لیا جائے اور رزلٹ سنانے کے لیے اسے بارگاہ الٰہی میں کھڑا کرایا جائے؟ کوئی نہیں جانتاکہ اگلے لمحے اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے اور اس کی موت کہاں واقع ہوگی؟ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِیْ نفْسٌ بایِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۔ (لقمان: ۳۴)

(کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آنی ہے؟)

موت كی یاد:

اگر موت کو کثرت سے یاد کیا جائے، اپنے ارد گرد مرنے والوں سے عبرت پکڑی جائے اور اپنی عاقبت کی فکر کی جائے تو اس سے دل کی تطہیر ہوگی، اس کی آلائشیں دور ہوں کی اور وہ مجلّٰی ومصفّٰی بن جائے گا۔

دوسری تدبیر اس حدیث میں یہ بتائی گئی ہے کہ قرآن کی تلاوت کی جائے۔ قرآن دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَآئٌ وَرَحْمَۃٌ لِلْمُؤمِنِیْنَ۔ (بنی اسرائیل: ۸۲)

(ہم اس قرآن کے سلسلۂ تنزیل میں وہ کچھ نازل کررہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔)

قرآ ن خیر و برکت کا ذریعہ ہے، اس کی تلاوت سے انسان رحمت ِ الٰہی کا مستحق بنتا ہے۔ قرآن ایک نور ہے جس سے زندگی کی تاریکیاں چھٹتی ہیں اور صحیح راہ عمل دکھائی دیتی ہے۔ قرآن سے تعلق عروج اور سربلندی کی ضمانت ہے تو اس سے عدم تعلق پستی و زوال کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

ان اللّٰہ یرفع بہٰذا الکتاب اقواماً ویضع بہ آخرین۔ (مسلم: ۸۱۷)

’’ اس کتاب کے ذریعے اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو بلندی عطا کرتا ہے اور کچھ لوگوں کو پستی میں ڈھکیل دیتا ہے۔‘‘

یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ قرآن دنیا کی واحد کتاب ہے جسے سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے، ساتھ ہی یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جسےبهت سے لوگ بغیر سمجھے بوجھے پڑھتے ہیں۔

جب قرآن کتاب ِ ہدایت ہے، وہ گائڈ بک ہے، اس کے ذریعے انسانوں کے مسائل ومشکلات کو حل کیا جاسکتا ہے تو اس کا یہ فائدہ اسے بغیر سمجھے بوجھے کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اسی لیے قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، اس میں غوروتدبر کی تاکید کی گئی ہے۔

اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلَی قُلُوبٍ اَقْفَالُہَا۔ (محمد: ۲۴)

(کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟)

استغفار:

دوسری چیز جس سے دلوں کی کدورت دور ہوتی ہے اور اس کی آلائشیں صاف ہوتی ہیں وہ توبہ و استغفار ہے۔ ہم میں سے کون ہے جو اپنی پارسائی کا دعویٰ کرسکتا ہے؟ ہم میں سے کون ہے جس سے کبھی چھوٹے بڑے گناہ کا صدور نہ ہوا ہو۔ گناہ، خطا، لغزش اور قصور سے دل آلودہ ہوتا ہے اور توبہ اس آلودگی کو دور کردیتی ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

کل بنی آدم خطّاء وخیر الخطائین التوّابون۔ (ابن ماجہ: ۴۲۵۱)

’’ تمام انسان بہت ساری غلطیاں کرنے والے ہیں اور ان بہت زیادہ غلطیاں کرنے والوں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو بہت زیادہ اللہ کی طرف پلٹنے والے ہوں۔ ‘‘

توبہ و استغفار سے نفوس کا تزکیہ اوردلوں کی تطہیر ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إنّ المؤمن اذا أذنب کانت نکتۃ سوداء فی قلبہ، فان تاب ونزع واستغفر صقل قلبہ، وان زاد حتی یعلو قلبہ،  ذلک الران الذی ذکر اللّٰہ عزّوجل فی القرآن (کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ) (المطففین:۱۴)۔ (احمد: ۷۹۵۲)

( مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرتا ہے اور اس عمل سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتا ہے تو اس کا دل صاف ستھرا ہوجاتا ہے، لیکن اگر یہ سیاہ نکتہ بڑھتا جاتا ہے تو پھر پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ یہی وہ ’زنگ‘ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے: ’’ ہرگز نہیں،  بلکہ در اصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔)

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انّہ لیُغان علی قلبی وانی لاستغفر اللہ فی الیوم مائۃ مرۃ۔ (احمد: ۱۷۸۴۸، ۱۸۲۹۱)

(میرے دل پر بھی غبار آجاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ )

دلوں کو پاکیزگی عطا کرنے والی تیسری چیز کثرت ِ دعا ہے۔ دعا بندے کو اللہ تعالیٰ سے قریب کرتی ہے۔ یہ عبادت کا مغز ہے۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بندے کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے۔ دعا اللہ تعالیٰ کی قدرت ِ کاملہ اور انسان کی عاجزی و بے بسی کا مظہر ہے۔ احادیث میں کثرت سے ایسی دعائیں منقول ہیں جن میں اللہ تعالیٰ سے دل کی پاکی و صفائی اور گناہوں سے حفاظت طلب کی گئی ہے۔

دُعا:

ایک صحابی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپؐ نے انھیں جودعا سکھائی اس میں یہ الفاظ بھی تھے:

اللہم اعوذ بک …من شرّ قلبی۔ (ابوداؤد: ۱۵۵۱، ترمذی: ۳۴۹۲، نسائی: ۵۴۴۴)

(اے اللہ میں اپنے دل کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔ )

ایک حدیث میں آپؐ کی یہ دعا منقول ہے:

اللہم مصرّف القلوب،  صرّف قلوبنا علی طاعتک۔ (مسلم: ۲۶۵۴)

(اے اللہ ! اے دلوں کو پھیرنے والے! تو ہمارے دل اپنی طاعت کی طرف پھیردے۔)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے:

رب اجعلنی لک شکّاراً، لک ذکّاراً،  لک رَہَّاباً،  لک مطواعاً، لک مخبتاً، الیک اوّاہا منیباً، رب تقبّل توبتی واغسل حوبتی واجب دعوتی، وثبّت حجّتی و سدّد لسانی، واہد قلبی واسلل سخیمۃ صدری۔ (ترمذی: ۳۵۵۱، ابوداؤد: ۱۵۱۰)

( اے اللہ! تو مجھے اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا، بہت زیادہ ذکر کرنے والا، بہت زیادہ ڈرنے والا، بہت زیادہ اطاعت کرنے والا بہت زیادہ پلٹنے والا، بہت زیادہ نرم دل اور بہت زیادہ رجوع کرنے والا بنادے۔ اے اللہ! میری توبہ قبول کرلے، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول کرلے، میری حجت کو پختہ کردے، میری زبان کو درست کردے، میرے دل کو سلامت روی عطا فرما اور میرے سینے کی کدورت کو دور کردے۔)

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے:

اللہم إنّی أعوذبک من الکسل والہرم والمأثم والمغرم … ونقّ قلبی من الخطایا کما نقّیت الثوب الأبیض من الدنس وباعد بینی و بین خطایای کما باعدت بین المشرق و المغرب۔ (بخاری: ۶۳۶۸، مسلم: ۵۸۹)

(اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتاہوں کاہلی، بڑھاپا، گناہ اور قرض سے۔ تو میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک کردیتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری کردے جتنی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان رکھی ہے۔)

Check Also

’تحقیقات اسلامی‘ کا سینتیس (37) سالہ سفر

بر صغیر ہندو پاک کے معیاری، علمی اور تحقیقی مجلوں میں ’تحقیقات اسلامی‘ کو تاج …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے