Home / Articles / تلخیص تفہیم القرآن – مولانا صدرالدین اصلاحیؒ کی قرآنی خدمات کا ایک اہم پہلو

تلخیص تفہیم القرآن – مولانا صدرالدین اصلاحیؒ کی قرآنی خدمات کا ایک اہم پہلو

مولانا صدرالدین اصلاحیؒ(۱۹۱۷-۱۹۹۸ئ) کا شمار برصغیر میں بیسویں صدی عیسوی کے ان علماء میں ہوتاہے ـجنہوںنے قرآنیات کے میدان میں اہم خدـمات انجام دی ہیں۔ ان کی تمام تصانیف قرآن کے اردگرد گھومتی ہیں۔ پروقار اور سنجیدہ اسلوب میں آیات کی تفسیر تاویل معانئی قرآن کی وضاحت اور اسالیب و مفرداتِ قرآنی کی تشریح ان کانمایاں وصف ہے۔ ان کتابوں میں دین کا قرآنی تصور، فریضۂ اقامتِ دین، قرآن مجیدکاتعارف، معرکۂ اسلام و جاہلیت، حقیقتِ نفاق، اساسِ دین کی تعمیر اور اسلام ایک نظر میں اہم اور قابل ذکر ہیں۔
’تیسیر ‘ سے ’تلخیص‘ تک
مولانا کی قرآنی خدمات کے ذیل میں ان کی ناتمام تفسیر ’تیسیرالقرآن‘ اور ’تلخیص تفہیم القرآن‘ کے نام سے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی شہرہ آفاق تفسیر کی تلخیص خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔
جماعت اسلامی ہند کی تشکیل کے کچھ ہی عرصہ کے بعد اس کے اکابرین اور اذمہ داروں نے قرآن کریم کی ایک ایسی تفسیر کی ضرورت محسوس کی جسے غیرمسلم ذہن کو سامنے رکھ کر لکھاگیاہو اور جس میں ان مسائل اور موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہو جو غیر مسلموں کی دل چسپی کے ہوں۔ ان کی نگاہِ انتخاب مولانا اصلاحی پرپڑی۔ وہ بجا طور پر اس کام کے لیے موزوں اور اس کی انجام دہی کے اہل تھے۔ مولانا نے ’تیسیرالقرآن‘کے نام سے یہ تفسیر لکھنی شروع کی اور اس کے اجزاء جماعت کے ترجمان ماہ نامہ زندگی رام پور میں شائع ہونے لگے، اس کی بہلی قسط اگست -ستمبر ۱۹۵۰ء کے مشترکہ شمارے میں شائع ہوئی۔
ایسا محسوس ہوتاہے کہ جماعت کے ذمہ داروں کو جلد ہی اس بات کا احساس ہوگیا کہ موجودہ حالات میں قرآن کے ایک نئے ترجمے اور تفسیر کی تیاری سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ نئے انداز کا دعوتی لٹریچر تیار کیا جائے جس میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کی توضیح و تشریح کی گئی ہو اور جسے غیر مسلموں اور مسلمانوں دونوں کے سامنے یکساں طور پر پیش کیا جاسکے، چنانچہ جماعت کی متعدد مرکزی مجالس شوریٰ میں یہ بات کہی جاتی رہی۔ ۱۰/جنوری ۱۹۵۱ء کو منعقد ہونے والی مجلس شوریٰ میںیہ فیصلہ کیاگیا: ’’جدید دعوتی لٹریچر تیار کرنے کے سلسلے میں طے کیاگیا کہ فی الحال چھ مہینے کے لیے مولانا صدر الدین صاحب اصلاحی ترجمہ و تفسیر کا کام ملتوی کرکے ضروری لٹریچر تیار کرنے کا کام انجام دیں‘‘ (روداد مجلس شوری جماعت اسلامی ہند، ۱/۵۹) دو سال کے بعد مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس منعقدہ ۲۴/اپریل تایکم مئی ۱۹۵۳ء میں پھر اس فیصلے کی تجدید کی : ’’دعوت و تبلیغ کے لیے اعلیٰ لٹریچر کی تیاری کے سلسلے میں طے کیاگیا کہ مولانا صدر الدین صاحب ترجمۃ قرآن کے کام کو ملتوی کرکے اعلی لٹریچر کی تیاری کاکام کریں‘‘ (روداد مجلس شوریٰ ،۱/۸۶) یہی فیصلہ جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس منعقدہ ۲- ۹؍ جون ۱۹۵۵ء میں بھی کیا :’’ایک عرصہ سے یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ دعوت کے ارتقاء کے لیے جدید لٹریچر کی تیاری کی شدید ضرورت ہے ۔ اس احساس کے پیش نظر … مولانا صدر الدین صاحب جو پہلے شعبۂ تصنیف و تالیف سے متعلق کردیے گئے تھے، اب بالکل یکسو ہوکر جدید لٹریچر تیار کریں اور تیسیر القرآن کے کام کو ملتوی رکھاجائے ‘‘ (روداد مجلس شوریٰ ، ۱/۱۰۵)
تیسیر القرآن کے عنوان سے مولانا نے جو کچھ لکھا تھا وہ ماہ نامہ زندگی میں قسط وار شائع ہوتارہا۔ اس کی ۲۹ قسطیں شائع ہوئیں۔ آخری قسط (اگست ستمبر۱۹۵۳ء کے مشترکہ شمارہ) کے ساتھ سورۂ بقرہ کی تفسیر مکمل ہوئی تو ساتھ ہی یہ اطلاع بھی دی گئی کہ ’’بعض وجوہ کی بناپر ترجمہ و تفسیر کا کام روک دیاگیاہے، لہٰذا زندگی میں یہ سلسلہ ایک غیر معین مدت کے ملتوی رہے گا‘‘ (ص ۱۹) لیکن یہ التواء پھر کبھی ختم نہ ہوسکا اور یہ تفسیر ناتمام رہ گئی۔
موجودہ دور کے ذہن کو سامنے رکھ کر آسان زبان میں عام فہم دعوتی تفسیر کی ضرورت مولانا مودودی نے بھی محسوس کی تھی۔ اس کی تحت انہوںنے فروری ۱۹۴۲ء سے تفسیرلکھنی شروع کی تھی جو جون ۱۹۷۲ء میں مکمل ہوئی۔ یہ تفسیر تفہیم القرآن کے نام سے پہلے بالاقساط ماہ نامہ ترجمان القرآن میں شائع ہوئی۔ بعد میں کتابی صورت میں چھ ضخیم جلدوں میں اس کی اشاعت ہوئی۔
جماعت اسلامی ہند کے قائدین نے تفہیم القرآن کی اہمیت کے پیش نظر ضرورت محسوس کی کہ ایک جلد میں اس کی تلخیص تیار کی جائے ، تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں پہنچایا جاسکے اور دیگر زبانوں میں بھی اس کے تراجم کرایے جاسکیں۔ چنانچہ جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس منعقدہ ۱۸/جون ۱۹۷۴ء میں اس کی تجویز منظورکی۔ اور اس وقت بھی اس اہم کام کی انجام دہی کے لیے مولانا صدر الدین اصلاحی ہی کا انتخاب عمل میں آیا۔ اور مولانا نے شوریٰ کی ہدایت کے مطابق کام شروع کردیا۔ اس دوران مولانا مودودی سے باقاعدہ اس کام کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ مولانا مودودی نے اس کام کی اجازت نہیں دی اور اس کی و جہ یہ بتائی کہ مختصر حواشی کے ساتھ ترجمۂ قرآن کی اشاعت خود ان کے پیشِ نظر ہے ۔ مولانا مودودی کا ترجمۂ قرآن مع مختصر حواشی ایک جلد میں شائع ہوا تو جماعت اسلامی ہند کے اکابرین بہ شمول مولانا صدر الدین اصلاحی نے محسوس کیا کہ حواشی کے بہت زیادہ مختصر ہونے کی وجہ سے وہ ضرورت پوری نہیں ہوئی جسے تلخیص تفہیم القرآن کے لیے محسوس کیا گیا تھا۔ چنانچہ مولانا اصلاحی نے پھر مولانا مودودی سے رجوع کیا اور تفہیم القرآن کی تلخیص ی ضرورت کے دلائل دے کر اس کام کی اجازت طلب کی ۔ مولانا مودودی نے اس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دے دی کہ یہ کام مولانا صدر الدین اصلاحی ہی کریںگے۔ مولانا تفہیم کی پہلی دوجلدوں کی تلخیص کرچکے منعقدہ ۱۷-۲۲؍ فروری ۱۹۷۸ء میں مولانا اصلاحی سے اس کام کو مکمل کرنے کی گزارش کی۔ مولانا نے تقریباً تین سال میں تفہیم القرآن کی بقیہ چار جلدوں کی تلخیص تیار کردی۔ تلخیص پر مولانا صلاحی کے قلم سے جو پیش لفظ ہے اس پر ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۱ء کی تاریخ درج ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس سے قبل مولانا تلخیص کے کام سے فارغ ہوچکے تھے ۔
تفہیم القرآن کی اہمیت اور تلخیص کی ضرورت
موجودہ دور میں اردو زبان میں جو تفسیریں لکھی گئی ہیں ان میں تفہیم القرآن کی کیا اہمیت ہے؟ اور اس کی تلخیص کرنے کی کیوں ضرورت محسوس کی گئی۔ مولانا صدر الدین اصلاحی نے اپنے پیش لفظ میں اس پر روشنی ڈالی ہے ۔ یہاں اسے نقل کردینا مناسب معلوم ہوتاہے ۔ مولانا نے تفہیم القرآن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھاہے ۔
’’مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نوّر اللہ مرقدہ کی مشہورِ زمانہ تفسیر تفہیم القرآن وقت کی ایک بہترین تفسیر ہے ۔ یہ تفسیر موجودہ دور کے ذہن کو قرآن حکیم اور اس کے بیان کردہ حقائق اور تعلیمات کے بارے میں جس طرح یقین و اطمینان کی ٹھنڈک سے بہرہ ور کرتی ہے وہ اسی کا حصہ ہے ۔ یہ پڑھنے والوں کے اندر صرف قرآن کا فہم ہی نہیں پیدا کرتی ہے، بلکہ طالبانِ حق کو ایمان کی تازگی اور عمل کی سرگرمی میں بھی عطا کرتی ہے اور ان کے اندر داعیانہ جذبات کو حرکت میں لاتی ہے ‘‘ (ص۳)
تفہیم القرآن چھ ضخیم جلدوں میں ہے ۔ اس کے صفحات کی مجموعی تعداد       ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اس کی تلخیص کی ضرورت محسوس کی ۔ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا نے لکھا ہے:
’’دین کا مفاد اور اسلام کا دعوتی مزاج تقاضاکرتاہے کہ ایسی گراں قدر تفسیر کی اشاعت وسیع سے وسیع پیمانے پر ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ ہاتھوں تک پہنچے، لیکن ایک تو یہ تفسیر ابھی صرف اردو زبان میں ہے ، دوسرے چھ ضخیم جلدوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان دونوں باتوں کے نتیجے میں غیراردو داں حلقے تو اس سے فائدہ بالکل اٹھا ہی نہیں سکتے اور اردو جاننے والوں کے لیے بھی اس کی افادیت عملاً اتنی نہیں ہوسکتی جتنی ہونی چاہیے ۔ اس صورت حال کو دیکھ کر جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ نے طے کیا کہ اس طویل تفسیر کی ایک جامع تلخیص تیار کرلی جائے جو صرف ایک جلد میں آسکے اور اسے صرف اردو ہی میں نہیں بلکہ ملک کی دوسری تمام اہم زبانوں میں منتقل کراکے شائع کیاجائے، تاکہ اس سے فائدہ اٹھاسکنے کی راہ کی بہ واقعی دشواریاں ختم ہوجائیں لوگوں کے لیے اس کا حاصل کرسکنا، بلکہ بالعموم ہر وقت ساتھ رکھنا بھی آسان ہوجائے، پھر ایک ہی مجلدمیں ہونے کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہوکہ تلاوت قرآن کی ضرورت بھی اس سے پوری ہوتی رہے ۔ مجلس شوریٰ نے یہ نازک اور بھاری ذممہ داری راقم الحروف کے سر ڈالی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کے اس فیصلے کے تحت اور مصنف کی باضابطہ اجازت کے ساتھ اس نے اپنی بساط بھر پوری احتیاط اور احساس ذم داری کے ساتھ اس کام کو انجام دے دیاہے‘‘ تلخیص ص ۳
تلخیص تفہیم القرآن میں مولانا اصلاحی کا کام
کسی بھی کتاب کی تلخیص ایک انتہائی نازک اور بہت زیادہ ذمہ داری کاکام ہے ۔ اس میں ایک طرف عبارت کا خلاصہ پیش نظر ہوتاہے تو دوسری طرف اس پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے کہ مصنف کی منشا پوری ہو اور کوئی اہم بات چھوٹنے نہ پائے ۔ مولانا اصلاحی نے اس نازک کا م کو بہت خوب صورتی سے انجام دیا ہے اور پوری احتیاط ملحوظ رکھی ہے ۔ مولانا کے کام کو درجِ ذیل نکات میں بیان کیاجاسکتاہے ۔
۱۔ تفہیم القرآن کے کل حواشی کی تعداد ۶۰۹۴ ہے ۔ سورۂ العصر میں صرف ایک حاشیہ ہے اور سب سے زیادہ حواشی سورۂ البقرہ میں ہیں ( ۳۴۲) تلخیص میں پوری شدّت سے یہ التزام کیاگیا ہے کہ تفہیم کا کوئی ایک حاشیہ بھی کلیۃً چھوٹنے نہ پائے ۔
۲۔ مختصر کیے ہوئے حواشی کی ایک قسم تو وہ ہے جو حذف و اختصار کے بعد بھی تمام ترمصنف کے اپنے ہی الفاظ پر مشتمل ہیں دوسری قسم ان حواشی کی ہے جن میں کہیں کہیں ایک دو لفظ یا ایک آدھ جملے مولانا اصلاحی کے بڑھائے ہوئے ہیں یہ اضافے حواشی کے بعض حصے حذف کیے جانے کے بعد باقی ماندہ عبارتیں باہم مربوط کرنے کے لیے ناگزیر تھے۔ اس اضافہ کو اس طرح کے بریکٹ ]   [میں رکھا گیا ہے ، تاکہ وہ مصنف کے الفاظ سے بالکل الگ اور ممیّز رہیں۔
۳۔ مولانا مودودی نے اپنے آخری دورِحیات میں ’ترجمۂ قرآن مع مختصر حواشی‘کے نام سے قرآن مجید کا جو ترجمہ تھوڑے سے مختصر ترین حواشی کے ساتھ علیحدہ سے ایک جلد میں شائع کیاتھا۔ اس کے حواشی اگرچہ تفہیم القرآن ہی کے حواشی کا اختصار ہیں۔ لیکن اس میں انہوںنے کچھ حواشی بالکل نئے سرے سے بھی لکھے ہیں جو تفہیم القرآن میں نہیں تھے اور نہ اب بھی ہیں۔ مولانا اصلاحی نے مولانا مودودی کے منشا کے مطابق اس تلخیص میں ان نئے حواشی کا بھی اضافہ کردیاہے ۔ انہیں ذیل نمبر (مثلاً حاشیہ نمبر ۶؍ الف) لگاکر درج کیاگیاہے ۔
۴۔ مولانا مودودی نے ’’ترجمۂ قرآن مع مختصر حواشی‘‘ میں تفہیم القرآن کے حواشی کو صرف مختصر ہی نہیں کیا ہے بلکہ ان میں سے کچھ کے اندر تھوڑی بہت لفظی ترمیمات بھی کی ہیں۔ چوں کہ ان ترمیموں کی حیثیت واضح طور پر نظر ثانی شدہ اور اصلاح یافتہ سورۂ تحریر کی ہے اس لیے تلخیص میں انہیں بدلی ہوئی عبارتوں کو لیاگیاہے ۔ اسی طرح ’’ترجمۂ قرآن مع مختصر حواشی‘‘ میں بھی اگرچہ تفہیم القرآن ہی کا ترجمہ دیاگیاہے۔ مگر اس میں کہیں کہیں مولانا مودودی نے چھوٹی موٹی لفظی ترمیمیں کی ہیں۔ چوں کہ ان ترمیموں کی حیثیت بھی اصلاح کی ہے اس لیے ’تلخیص‘ میں اس ترمیم شدہ ترجمہ کو لیاگیا ہے ۔ البتہ تفہیم القرآن میں بعض آیتوں کے ترجموں پر دو لفظی حاشیے دیے گئے ہیں انہیں ’’ترجمۂ قرآن مع مختصر حواشی‘‘میں حاشیہ کے طور پردینے کے بجائے ترجمہ کے متنہی کے اندر بریکٹ میں دے دیا گیا ہے ۔ تلخیص میں انہیں حاشیہ ہی میں رکھا گیاہے ۔
مولانا نے کس انداز سے تلخیص کی ہے اسے ایک مثال سے سمجھاجاسکتاہے ۔ تفہیم القرآن میں سورۂ فاتحہ کی آیت الرحمن الرحیم پر یہ حاشیہ ہے:
انسان کا خاصہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتاہے اور اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کر وہ محسوس کرتاہے کہ اس شے کی فراوانی کا حق ادانہیں ہوا تو پھر وہ اسی معنیٰ کا ایک اور لفظ بولتاہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے ۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں یہی نکتہ پوشیدہ ہے ۔ رحمن عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ لیکن خداکی رحمت اور مہربانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے ، اس قدر وسیع ہے ، ایسی بے حدوحساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ کا لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا۔ اس لیے اس کی فراوانی کا حق اداکرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیاگیا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں ’’سخی‘‘ کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اس پر ’’داتا‘‘ کا اضافہ کردیتے ہیں ۔ رنگ کی تعریف میں جب ’’گورے‘‘ کو کافی نہیں پاتے تو اس پر ’’چٹّے‘‘ کا لفظ اور بڑھادیتے ہیں ۔ درازیٔ قد کے ذکر میں جب ’’لمبا‘‘ کہنے سے تسلّی نہیں ہوتی تو اس کے بعد ’’تڑنگا‘‘بھی کہتے ہیں‘‘۔
مولانا اصلاحی نے اس حاشیہ کی تلخیص ایک جملے میں کی ہے جس کا نصف مولانا مودوی کے الفاظ پر مشتمل ہے اور نصف مولانا اصلاحی کے الفاظ پر:
’’اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ ]اس کی رحمت کی بے حدوحساب وسعت ظاہر کرنے کے لیے کیاگیاہے[
تلخیص کی نوعیت اور اس کا تناسب
مولانا اصلاحی نے بیان کیا ہے کہ انہوںنے تفہیم القرآن کے نصف سے زائد حواشی جوں کے توں رکھے ہیں اور بقیہ میں کہیں معمولی اور کہیں زیادہ تلخیص سے کام لیا ہے ۔ تلخیص کے تناسب کا اندازہ درجِ ذیل جدول سے کیاجاسکتاہے ۔
فی صد
تفہیم القرآن کے حواشی
تلخیص تفہیم القرآن
۵۵
۳۰

۱۵
بہت مختصر حواشی
اوسط درج کی طوالت رکھنے والے حواشی
طویل حواشی
کسی تلخیص کے بغیر جوں کے توں برقرار رکھے گئے ہیں
زیادہ تر کو قدرے مختصر کردیاگیاہے، کچھ کو کسی مخصوص اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر علیٰ حالہ باقی رکھاگیاہے
زیادہ تر کو کافی مختصر کردیاگیاہے ، بعض کو کسی اہمیت کے پیش نظر بعینہ لے لیا گیا ہے
مولانا نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ انہوںنے عام طور سے تین طرح کے حواشی کی تلخیص کی ہے :
۱۔ وہ حواشی جن میں فقہی یا تاریخی تفصیلات بیان ـہوئی ہیں۔
۲۔ وہ حواشی جن میں قرآنیات یا توریت یا انجیل کے یکے بعد دیگرے کئی کئی حوالے دیے گیے ہیں ۔
۳۔ وہ حواشی جن کے مضامین پہلے کہیں دوسرے حواشی میں گزرچکے ہیں۔
تلخیص میں حذف کردیے جانے والے مباحث
مولانا اصلاحی نے اقوالِ مفسرین، واقعاتِ سیرت، احادیث، فقہ، تاریخ، بائبل اور اسرائیل روایات عربی اشعار وغیرہ سے متعلق تفہیم القرآن کے وہ حصے عموماً حذف کردیے ہیں جو اگر چہ معلومات کے اعتبار سے اہم تھے ، لیکن تفہیم آیات میں ان کی بنیادی اہمیت نہیں تھی اور ان کے بغیربھی آیات کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں پیش آئی تھی۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
۱۔ مولانا مودودی نے آیت وَاَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ (النسائ: ۲۳)کی تفسیر میں رضاعت سے رشتوں کی حرمت کا بیان کیا ہے ۔ حرمتِ رضاعت کس قدر دودھ پینے سے اور کس عمر میں پینے سے ثابت ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں فقہاء کے اختلافات ذکر کیے ہیں (حاشیہ: ۳۸) آیت وَاِذَاضَرَبْتُمْ فِی الاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُم جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاَۃِ (النسائ:۱۰۱) کے تحت ، سفر میں صرف فرض پڑھے جائیں یا سنتیں بھی؟ سفر میں قصر ضروری ہے یا نہیں؟ قصر کے لیے مقدار سفر کیا ہے؟ اثنائے سفر دورانیۂ قیام کیا ہے جس میں قصر کیا جاسکتاہے؟ ان مباحث میں فقہاء کے اختلافات ذکر کیے ہیں (حاشیہ:۱۳۲) سورۂ جمعہ کی تفسیر میں مذاہبِ اربعہ میں احکامِ جمعہ کاخلاصہ بیان کیا ہے (حاشیہ:۱۸) آیت یُوْفُوْنَ بِالنَذْرِ (الدھر:۷)کی تفسیر کے ضمن میں نذر کے احکام تفصیل سے بیان کیے ہیں (حاشیہ:۱۰) مولانا اصلاحی نے اس طرح کی تمام بحثیں حذف کردی ہیں۔
۲۔ مولانا مودودی نے آیت وَقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا المَسِیْحَ عِیْسیٰ بْنَ مَرْیَمَ (النسائ:۱۵۷)کی تفسیر میں تلمود اور بائبل کے حوالے سے یہود کے ہاتھوں قتل انبیاء کے بعض واقعات نقل کیے ہیں (حاشیہ:۱۹۱) مولانا اصلاحی نے سب کا خلاصہ ایک جملہ میں سمیٹ دیاہے : ’’یہود کی تاریخ تو ایسے سیاہ کارناموں سے بھری پڑی ہے ‘‘ آیت وَجَارَاَہْلُ المَدِیْنَۃِ یَسْتَبْشِرُوْنَ (الحجر:۶۷) کے تحت مولانا مودودی نے تالمود کے حوالے سے قوم لوط کی اخلاقی برائیوں کے کچھ واقعات لکھے ہیں (حاشیہ:۳۹) مولانا اصلاحیؒ نے انہیں حذف کردیاہے۔
۳۔ اسی طرح کا حذف مولانا اصلاحی نے واقعاتِ سیرت اور احادیث کے ضمن میں بھی کیا ہے ۔ مثلاً آیت وَالَّذِیْنَ یُظَاہِروْنَ مِنْ نِسَائِہِمْ (المجادلۃ:۳)کے تحت عہد نبوی میںظہار کے چار واقعات بیان کیے ہیں (حاشیہ:۷) وَلاَیَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً (الـحجرات:۱۷)کے ضمن میں غیبت کی بعض صورتوں کا جواز بیان کرنے کے لیے عہد نبوی کے بعض واقعات نقل کیے ہیں (حاشیہ:۲۶) مولانا اصلاحی نے یہ واقعات حذف کردیے ہیں۔ آیت یٰآیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواصَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تسْلیماً (الاحزاب:۵۶)کی تفسیر میں مولانا مودودی نے پہلے صلاۃ وسلام کی لغوی تشریح کی ہے ، پھر احادیث میں صلاۃ وسلام کے کیا الفاظ آئے ہیں؟ ان سے متعلق روایتیں نقل کی ہیں آخر میں صلاۃ وسلام واجب ہے تو کب؟ اور کتنی مرتبہ؟ اس سلسلے میں فقہاء کے اختلافات سے بحث کی ہے ۔ (حاشیہ: ۱۰۷) مولانا اصلاحی نے صرف لغوی تشریح باقی رکھی ہے، بقیہ سب حذف کردیاہے اور قوسین میں لکھ دیاہے ]انہیں حدیث کی کتابوں سے معلوم کیا جاسکتاہے[آیت یٰآیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمْ (الطلاق:۱)کی تشریح کرنے کے بعد مولانا مودودی نے اس مضمون کی احادیث نقل کی ہیں پھر طلاق کی قسمیں، احکام اور فقہاء کے اقوال ذکر کیے ہیں (حاشیہ:۱) مولانا اصلاحی نے احادیث اور فقہی تفصیلات حذف کردی ہیں۔
۴۔ مولانامودودی نے آیت وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّہَاتُہُمْ (الاحزاب:۶) کی تفسیرکے ضمن میں ان شیعوں پر نقد کیا ہے جنہوںنے ام المومنین حضرت عائشہؓ کو ہدفِ تنقید بنایاہے اور ان کے خلاف روایات گڑھی ہیں(حاشیہ:۱۳) سورۂ ص کی تفسیر میں حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمان ؑ کے واقعات کے ضمن میں مفسرین کے اقوال نقل کیے ہیں (حاشیہ:۲۸،۳۵) آیت فَبِاَیِّ آلاَئِ رَبّکُمَاتُکَذِّبَانِ (الرحمن:۱۳)سلام کی تفسیر کرتے ہوئے لفظ ’آلائ‘ کے تین معانی بیان کیے ہیں اور دلیل میں سات اشعار پیش کیے ہیں (حاشیہ:۱۲) مولانا اصلاحی نے اس طرح کی تمام بحثیں حذف کردی ہیں ۔
مذکورہ بالاچندمثالیں تلخیص کی نوعیت واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مولانا اصلاحی نے ہر جگہ احادیث، فقہی مباحث، سیرت اور تاریخ کے واقعات، اسرائیلی روایات اور تفسیری اقوال و غیرہ کو حذف کردیا ہے ، بلکہ کثرت سے ایسی مثالیں بھی ہیں کہ مولانا نے تلخیص کے ساتھ انہیں باقی رکھاہے ، یا کم از کم ان کی طرف اشارہ کردیاہے اور ان کے حوالے دے دیے ہیں۔ ایسی مثالوں کا بیان طول کا باعث ہوگا اس لیے ان سے صرفِ نظر کیاجاتاہے ۔
اہم مباحث بغیر تلخیص کے یا معمولی تلخیص کے ساتھ
مولانا صدر الدینہ اصلاحی نے ذکر کیا ہے کہ انہوںنے تفہیم القرآن کے طویل حواشی کو ، جن کا تناسب تقریباً ۱۵ فی صد ہے، عموماً کافی مختصر کردیاہے، لیکن ان میں سے بعض کو کسی اہمیت کے پیش نظر بعینہ لے لیا ہے ۔ ان حواشی کا تعلق ان مباحث سے ہے جو تفہیم القرآن کے امتیازات میں سے شمار کیے جاتے ہیں ۔ ذیل میں اس سلسلے کی چند مثالیں بیان کی جاتی ہیں:
قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت ان الفاظ میں مذکور ہے : اِنَّ اللّٰہَ رَبِّی وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوہ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ (آل عمران:۵۱)مولانا مودودی نے تفہیم القرآن کے ۲ صفحات میں عہدنامہ جدید کے حوالے سے عقیدۂ توحید سے بحث کی ہے (حاشیہ :۴۸) آیت :وَمَاکُنْتَ تَرْجُو اَنْ یُّلْقٰی اِلَیْکَ الکِتٰبَ (القصص:۸۶)کے ضمن میں مولانا نے تفصیل سے منصبِ نبوت اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبل نبوت زندگی پر اظہار خیال کیا ہے (حاشیہ :۱۰۹)یہ بحث تفہیم القرآن کے ۳ صفحات میں پھیلی ہوئی ہے۔ آیت وَفَدَیْنٰہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ (الصّٰفّٰت:۱۰۷)کی  میںمولانا نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبیح ہونے پر ۶ دلیلیں دی ہیں(حاشیہ:۶۷) یہ بحث ۴ صفحات پر محیط ہے ۔ آیت مَاکَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہٗ فِی دِیْنِ المَلِکَ (یوسف:۷۶)کے ذیل میں ’دین الملک‘ پر بہت عمدہ بحث ہے جو ۳ صفحات میں پھیلی ہوئی ہے (حاشیہ:۶۰)ان تمام مباحث کو تلخیص تفہیم القرآن میںبھی بغیر تلخیص کے باقی رکھا گیاہے۔
آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ (الشوری:۱۳)کے تحت مولانا مودودی نے ’اقامتِ دین‘ پر بہت اچھی بحث کی ہے جو تفہیم القرآن کے ۷صفحات پر مشتمل ہے (حاشیہ:   ) آیت قُلْ یٰآہْلَ الکِتٰب لاَتَغْلُوا فِی دِیْنِکُمْ (المائدۃ:۷۷)کی تفسیر کے ضمن میں عیسائیوں کی گمراہی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کے حوالے دیے ہیں (حاشیہ:۱۰۱)یہ بحث ۵ صفحات پر محیط ہے ۔ مولانا اصلاحی نے بہت معمولی تلخیص کے ساتھ ان بحثوں کو باقی رکھا ہے ۔
اشاعتِ نو کے سلسلے میں چند مشورے
تلخیص تفہیم القرآن مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے ۱۹۸۴ء سے شائع ہورہی ہے۔ ۲۳ سال کے عرصہ میں اس کے دسیوں ایڈیشن منظر عام پر آئے ہیں اور اسے دینی، دعوتی اور تحریکی حلقوں میں قبولِ عام حاصل ہواہے ۔ اس کی اشاعت کو بہتر اور قارئین کے لیے سہل الاستفادہ بنانے کے لیے ذیل میں چند مشورے درج کیے جاتے ہیں:
۱۔ تلخیص میں ترجمہ کی کتابت زیر متن کرائی گئی ہے ۔ اس لیے اس میں پیراگراف قائم نہیں کیے گئے ہیں۔ حالاں کہ مصنف کے نزدیک بجاطور پر اس پیراگرافنگ کی بڑی اہمیت تھی۔ اس کے لیے ایک مخصوص طریقہ اختیارکیاگیاہے ۔ مصنف نے جہاں جہاں نئے پیراگراف قائم کیے ہیں وہاں کتابت کراتے وقت اس طرح کی ’’I‘‘کھڑی لائنیں لگوادی گئی ہیں ۔ اس کے بجائے یہ طریقہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ہر صفحہ کی بالائی سطروں میںآیات درج کی جائیں اور اس کے نیچے کی سطروں میں ترجمہ کی کتابت کروائی جائے ۔ اس طرح پیراگرافنگ کو باقی رکھاجاسکتاہے ۔
۲۔ ہر صفحہ سے متعلق حواشی اس صفحہ پر مکمل نہیں ہوسکے ہیں ۔ اس صورت میں متعلقہ صفحات کے آخرمیں لکھاگیا ہے ’’باقی حواشی صفحہ نمبر فلاں پر‘‘ ان حواشی کی تکمیل کے لیے آخر میں ۹۵ صفحات لگائے گئے ہیں ۔ اس طرح قاری کو ناتمام حواشی کا مطالعہ کرنے کے لیے بار بار ضخیم کتاب کو پلٹ کر آخری صفحات سے رجوع ہونا پڑتاہے۔ قاری کو اس زحمت سے بچانے کے لیے بہتر ہوگاکہ مذکورہ ۹۵ صفحات کو کتاب کے آخر میں لگانے کے بجائے ناتمام حواشی والے صفحات کے بعد متصلاً لگادیاجائے، جیسا کہ تفسیر ماجدی کے پاکستانی ایڈیشن میں کیا گیا ہے ۔
خاتمہ
تفہیم القرآن کی تلخیص کاکام جب مولانا صدر الدین اصلاحیؒ کے حوالے کیا گیا اس وقت ان کی عمر

Check Also

تکثیری معاشرہ کے لیے قرآنی ہدایات

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں کے درمیان گوناگوں اختلافات پائے …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے