Home / Articles / شادی سے قبل نوجوانوں کی کونسلنگ ضروری

شادی سے قبل نوجوانوں کی کونسلنگ ضروری

 ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

          موجودہ دور میں ہندستان میں امتٍ مسلمہ جن مسائل کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم مسئلہ نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا ہے۔ یہاں اسکولی مرحلہ سے ہی مخلوط تعلیم کا رواج ہے۔ بعض اسکولوں میں ثانوی تعلیم کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ سیکشن بنائے جاتے ہیں، لیکن کالج کی سطح پر ہر حال میں مخلوط تعلیم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب ان میں جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ وہ صنف مخالف کی طرف کھنچاؤ محسوس کرتے ہیں۔ اس عمر میں والدین اپنے بچوں کے نکاح کے لیے فکر مند ہوتے ہیں۔ وہ رشتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ یہ موضوعات گھر میں بچوں کے سامنے بھی آتے ہیں۔ نوجوانوں کی زندگی میں یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر اس میں ان کی مناسب رہ نمائی نہ کی جائے تو ان کے بھٹکنے اور غلط راہ پر پڑ جانے کے امکانات رہتے ہیں۔

         اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو وطن سے دور جانا پڑتا ہے۔ کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں وافر مقدار میں ہاسٹل کی سہولت میسر نہ ہونے کی بنا پر وہ پرائیویٹ ہاسٹلس کا رخ کرتے ہیں، یا کرائے کے مکانات حاصل کرتے ہیں۔ اس دوران آزادنہ اختلاط کے نتیجے میں جنس (Sex) کا جذبہ جوش مارتا ہے تو وہ نکاح کے بغیر جنسی تعلق (Live in relationship) کی جانب مائل ہوجاتے ہیں۔ کچھ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان رشتے کی بات چلتی ہے تو پھر وہ نکاح سے قبل جنسی تعلق (Pre-marital sex) میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ اباحیت پسندی نے مرد کے مرد سے جنسی تعلق (Homosexuality) اور عورت کے عورت سے جنسی تعلق (Lasbianism) کی راہیں سجھا دی ہیں، لہٰذا اب اس کی بھی قباحت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں مسلم نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے جنس کی تسکین کے لیے صرف نکاح کا راستہ بتایا ہے۔ اس کے علاوہ تمام طریقے حرام اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والے ہیں۔

          کالج کی زندگی میں لڑکوں اور لڑکیوں کا باہم میل جول ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے کو شریک ِ حیات (Life partner)کی حیثیت سے پسند کرنے لگتے ہیں تو بعض مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً لڑکا مسلم ہے اور لڑکی غیر مسلم، یا اس کے برعکس،لیکن وہ وقتی جوش میں آکر نکاح پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ پہلے بین مذہبی شادیوں (Inter Religions Marriages) کے اِکّادُکّا واقعات سننے کو ملتے تھے۔ اب خاصا اضافہ ہوگیا ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔اسلام میں نکاح درست ہونے کے لیے زوجین کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ کسی غیر مسلم سے نکاح جائز نہیں۔ ایسے موقع پر ضروری ہے کہ مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر دینی اعتبار سے غیر مسلموں سے نکاح کی قباحتیں واضح کی جائیں۔

          نکاح کے معاملے میں ذات برادری کا بھی معاملہ اٹھتا ہے۔ لڑکی کسی برادری ہے، لڑکا دوسری برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ عموماً والدین ایسی شادیوں کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان میں مسئلہ کفاء ت کو ذات برادری سے جوڑ دیا گیا ہے، جب کہ اسلام کے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نکاح کے معاملے میں ہم آہنگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے دین داری کو ترجیح دی جائے۔

          آزادانہ ماحول نے پسند کی شادی (Love marriage) کو رواج دیا ہے۔ اس معاملے میں بھی اعتدال کی ضرورت ہے۔ لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کے کسی رشتے کی نشان دہی کرے تو والدین کو چاہیے کہ اسے آوارگی پر محمول نہ کریں، بلکہ اس پر غور اور اس کی تحقیق کریں۔ اگر وہ رشتہ مناسب لگے تو اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اگر وہ خود کوئی رشتہ تلاش کرلیں تو اسے فائنل کرنے سے پہلے لازماً لڑکے یا لڑکی کی رضا مندی لیں۔ عموماً لڑکیوں کی مرضی معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، جب کہ دینی اعتبار سے یہ درست رویّہ نہیں ہے۔ عہدِ نبویؐ میں ایسے متعدد واقعات پیش آئے جن سے پتہ چلتا ہے کہ شادی میں لڑکی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ ایک مرتبہ ایک لڑکی نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا رشتہ ایسی جگہ طے کر دیا جو مجھے پسند نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے رشتے کو کینسل کروا دیا۔ (بخاری)

        نکاح کے نتیجے میں ایک خاندان وجود میں آتا ہے۔ اسلام نے شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق متعین کیے ہیں۔ جو بیوی کے حقو ق ہیں وہ شوہر کے فرائض ہیں اور جو شوہر کے حقوق ہیں وہ بیوی کے فرائض ہیں۔ نکاح کے بندھن میں بندھنے سے قبل لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے حقوق کا بھی علم ہونا چاہیے اور فرائض کا بھی۔ اسلام نے خاندان کا نظم چلانے کے لیے اس کی سربراہی مرد کو سونپی ہے۔ یہ ایک انتظامی ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مردکو حاکمانہ اور جابرانہ اختیارات دیے گئے ہیں اور عورت کو گھر کی لونڈی بنایاگیا ہے جو شوہر کے ہر طرح کے حکم کو ماننے کی پابند ہے۔ اسلام نے عورت کے حق ملکیت کوتسلیم کیا ہے اور وقت ضرورت اس کی معاشی جدو جہد کی اجازت دی ہے، لیکن اس کے لیے بہ ہر حال شوہر کی اجازت ضروری ہے۔

          نکاح کے بعد لڑکی جب شوہر کے گھر پہنچتی ہے تو اسے نئے افرادِ خاندان سے سابقہ پیش آتا ہے۔ سا س، سسر، نند، بھاوج، دیور، جیٹھ وغیرہ۔ ان کے ساتھ اس کا تعلق کیسا ہو؟اور وہ لوگ اس کے ساتھ کس طرح پیش آئیں؟ اس پر خاندان کی خوش گواری موقوف ہوتی ہے۔ اسلام مشترکہ خاندان کا بالکلیہ مخالف ہے نہ بالکلیہ حامی۔ وہ بس یہ چاہتا ہے کہ نئے جوڑے کو خلوت (Privacy)کا حق حاصل رہے اور مکان کا ایک حصہ عورت کے آزادانہ تصرف میں رہے، جس میں خاندان کے کسی اور فرد کی دخل اندازی نہ ہو۔ لڑکی کا تعلق اصلاً اس کے شوہر سے ہوتا ہے،خاندان کے دوسرے افراد کی خدمت اس کے ذمہ نہیں ہے، لیکن اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ اب اس کے رشتے دار ہوگئے ہیں اور رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا اسلام نے حکم دیا ہے۔اسے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ خدمت کرکے دوسروں کا دل جیتا جا سکتا ہے۔

           بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ خاندان جن کے تمام افراد ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ان کے درمیان پیار و محبت اور الفت و مودّت آخر تک قائم رہتا ہے۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں اور تنازعات سر ابھارنے لگتے ہیں۔ اگر یہ صورتِ حال پیدا ہونے لگے تو اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں زوجین خود انھیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ حل نہ کر سکیں تو خاندان کے بڑے بوڑھوں کو شریک کریں اور اگر وہ بھی ان تنازعات پر قابو نہ پا سکیں تو زوجین باقی زندگی گھٹ گھٹ کر جییں، اس سے بہتر ہے کہ علیٰحدگی حاصل کریں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق طلاق غصہ میں آکر یا جذبات کی رَو میں بہہ کر اچانک اختیار کیا جانے والا قدم نہیں، بلکہ سوچ سمجھ کر اپنایا جانے والا فیصلہ ہے۔

          موجودہ حالات میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مسلم نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کو نکاح کے بندھن میں بندھنے سے قبل اس سلسلے کی ضروری معلومات بہم پہنچائی جائیں۔ انھیں نکاح کے مقصد، حکمت، حدود و شرائط، زوجین کے حقوق و فرائض اور ان کے اختیارات، نکاح کے بعد پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کے طریقے اور تنازعات کو سلجھانے کی تدابیر بتائی جائیں، تاکہ وہ پہلے سے ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس کے لیے مناسب ہے کہ مسلم جماعتیں اور تنظیمیں سرگرم ہوں، اہلِ علم ایک مختصر مدتی کورس تیار کریں، ہر شہر میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے پروگرام منعقد کریں اور اس کو رس کے مطابق ان کے سامنے لیکچرس دیے جائیں۔ مطالعہ کے لیے بھی انھیں کچھ کتابیں فراہم کی جائیں۔ مساجد کی کمیٹیاں اس معاملے میں سرگرم رول ادا کر سکتی ہیں۔ امید ہے کہ اس طرح نوجوانوں کی بے راہ روی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور انھیں اسلامی تعلیمات کے مطابق ازدواجی زندگی گزارنے کی تلقین کی جا سکتی ہے۔

Check Also

سماجی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سورئہ احزاب کی ایک آیت ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے