Home / Articles / عید الاضحی: تاریخ اور پیغام

عید الاضحی: تاریخ اور پیغام

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

عید الاضحی ہر سال قمری مہینہ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اسے مسلمانوں میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ ایک طرف جہاں سماجی پہلو سے یہ خوشی و مسرت، باہمی ربط اور ہمدردی کا موقع فراہم کرتی ہے وہیں دوسری طرف اس کی مذہبی حیثیت بھی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب اور اقوام میں خوشی منانے کے لیے مختلف رسوم اور تہوار ہیں، لیکن اسلام کا یہ ’ تہوار‘ ان سب سے منفرد اور امتیاز ہے۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں کے لوگ دو دن جشن مناتے ہیں، جن میں یہ خوب کھیل کود کرتے ہیں۔ آپؐ نے ان کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے جواب دیا: ’’زمانۂ قدیم سے یہ دون ہمارے تہوار ہیں، جن میں ہم کھیل تماشا کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

انَّ اللّٰہَ قَدْ اَبْدَلَکُمْ بِہِمَا خَیْراً مِّنْہُمَا: یَوْمَ الاَضْحٰی وَ یَوْمَ الْفِطْرِ۔ (ابوداؤد: ۱۱۳۴)

’’ اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے تمھیں ان سے اچھے دو دن عطا فرمائے ہیں : اضحی کا دن (یعنی عید الاضحی) اور فطرکادن (یعنی عید الفطر)‘‘

تاریخ

عید الاضحی کے موقع پر پوری دنیا کے صاحب حیثیت مسلمان قربانی کرتے ہیں۔ یہ اس بے مثال اور عظیم قربانی کی یادگار ہے جو اللہ کے برگزیدہ اور محبوب پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حضور پیش کی تھی۔

آج سے تقریباً چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت عراق کے علاقے ’ اُر‘ میں ہوئی تھی۔ یہ علاقہ جہاں ایک طرف تمدن و تجارت کا بڑا مرکز تھا، وہیں دوسری طرف شرک و بت پرستی کا گڑھ بھی بنا ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے توحید کی دعوت کا آغاز کیا اور شرک اور بت پرستی کی سخت انداز میں مخالفت کی تو تمام لوگ آپ کے دشمن بن گئے۔ باپ اور خاندان ہی نہیں، بلکہ ساری قوم اور حکم رانِ وقت بھی آپ کی جان کے درپے ہوگئے۔ انھوں نے آپ کو ڈرا دھمکاکر آپ کے مشن سے روکنے کی کوشش کی، لیکن جب ناکام ہوگئے تو آپ کو زندہ جلانے کے لیے ایک گہری خندق میں آگ دہکاکر اس میں ڈال دیا۔ لیکن مشیّت ایزدی سے آپ محفوظ رہے اور آپ کا بال بیکا نہ ہوا۔ اس کے بعد آپ حکم الٰہی سے ہجرت کر گئے۔ آپ شام، فلسطین، مصر، ریگ زار عرب اور دنیا کے دوسرے خطوں میں تشریف لے گئے۔ ہر جگہ آپ نے اللہ کا کلمہ بلند کیا اور لوگوں کو اس کی اطاعت وفرماں برداری کی دعوت دی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام متعدد آزمائشوں سے گزرے اور ہر آزمائش میں سرخ رو ہوئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں پوری دنیا کا امام بنا دیا (البقرۃ: ۱۲۴)۔ اپنے وطن سے سے ہجرت کرتے وقت انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ ’’ مجھے صالح اولاد عطا کر۔‘‘ یہ دعامقبول ہوئی اور ان کی بیوی حضرت ہاجرہ سے اسماعیل کی پیدائش ہوئی۔ ابھی اسماعیل چھوٹے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم ؑ کو حکم ہوا کہ اس بے آب و گیاہ وادی میں، جسے آئندہ قیامت تک کے لیے دعوت اسلامی کا مرکز بننا ہے، اسماعیل کو اُن کی ماں کے ساتھ چھوڑ آئیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فوراً تعمیل کی۔ حضرت ہاجرہ نے صبر ورضا کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ بالآخر مشیت الٰہی سے آب و گیاہ اور سنسان وادی میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ زمزم کا چشمہ جاری ہوگیا۔ اسے دیکھ کر اس راہ سے گزرنے والے قافلے وہاں آباد ہوگئے اور ایک بستی قائم ہوگئی۔

حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیوی اور بیٹے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر بے پروا نہیں ہوگئے تھے، بلکہ وقتاً فوقتاً ان کی خبر گیری کے لیے آتے رہتے تھے۔ اسماعیل جب تھوڑے بڑے ہوئے اور دوڑدھوپ کی عمر کو پہنچ گئے تو حضرت ابراہیم ؑ کی ایک دوسری بڑی آزمائش کی گئی۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے خواب میں اشارہ کیا کہ اپنے بیٹے کو میری راہ میں قربان کردو۔ حضرت ابراہیم ؑ فوراً اس پر بھی آمادہ ہوگئے۔ باپ بیٹے دونوں نے سرِ تسلیم خم کردیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش میں بھی کام یابی کا مژدہ سنایا، بیٹے کو قربان کرنے سے روک دیا اور ان کے بجائے دُنبے کی قربانی کا حکم دیا۔

آخر میں حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کے ساتھ مل کر سرزمین ِمکہ میں خانۂ کعبہ کی تعمیر کی، جسے مشیت الٰہی سے تاقیامت توحید کا مرکز بننا تھا۔ انھوں نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کی کہ ’’ ہماری نسل سے ایک ایسی امت برپا کر جو تیری مطیعِ فرمان ہو۔‘‘ (البقرۃ:۱۲۷-۱۲۸)۔ خانۂ کعبہ تعمیر ہوگیا تواللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کوحکم دیا کہ وہ لوگوں میں ’حج‘ (بیت اللہ کی زیارت) کی منادی کردیں، تاکہ لوگ دنیا کے کونے کونے سے مکہ مکرمہ کا قصد کریں، وہاں آکر مناسک ادا کریں، اللہ کے نام پر قربانی کریں، اس کا گوشت خود کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں۔ آج پوری دنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں ہر سال مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں، وہ در اصل حضرت ابراہیم ؑکی اسی منادی کی تعمیل ہے۔

حج و قربانی حضرت ابراہیم ؑکی یادگار

حج کے تمام مناسک و شعائر در اصل حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی یادگار کے طور پر مشروع کیے گئے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے حج کے موقع پر ارشاد فرمایا:

قِفُوا عَلَی مَشَاعِرِکُمْ فَاِنَّکُمْ عَلَی اِرْثٍ مِّنْ اِرْثِ اَبِیْکُمْ اِبْرَاہِیْمَ۔ (ابوداؤد: ۱۹۱۹)

’’ حج کے تمام مناسک ادا کرو۔ یہ تمھیں تمھارے باپ ابراہیم ؑ سے ورثہ میں ملے ہیں۔ ‘‘

حضرت ابراہیم ؑ کی یادگارتلبیہ(لبیک کہنا)، طوافِ کعبہ، صفا ومروہ کے درمیان سعی، وقوفِ عرفہ، قربانی، رمی جمرات اور دیگر مناسکِ حج میں کارفرما ہے۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ نے ان پر عمل کیا۔ ان کے بعد ان کی ذریت اور ان پر ایمان لانے والےان پر عمل کرتے رہے۔ آخرمیں خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر عمل کیا اور اپنی امت کو ان پر عمل کرنے کا حکم دیا۔

اللہ کی کبریائی کا اعلان

حج کے موقع پر انجام دیا جانے والا ایک عمل ’تلبیہ ‘ہے۔ حاجی احرام باندھتے ہی تلبیہ شروع کرتا ہے اور سفر کے دوران میں مسلسل اسے دہراتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ جمرۂ عقبہ پر کنکریاں مار لے۔ عمرہ کرنے والے کے لیے بھی تلبیہ مشروع ہے، یہاں تک کہ وہ حجر اسود کا ’استلام‘ کرلے۔ حدیث میں تلبیہ کے یہ الفاظ مروی ہیں :

لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔ (بخاری: ۱۵۵۹، مسلم: ۱۱۸۴)

’’ میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ حمد و ثنا تیرے ہی لیے ہیں، نعمت بھی تیری ہی ہے اور بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ ‘‘

          جو لوگ حج پر نہ جاسکیں ان کے لیے تکبیر تشریق کی مشروعیت ہے۔ ۹؍ذی الحجہ کی فجر سے ۱۳؍ ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نمازکے بعد تکبیر تشریق پڑھنا واجب ہے۔اسی طرح عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز کے لیے عیدگاہ جاتے وقت بھی تکبیر کہنے کاحکم دیا گیا ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں :

اللّٰہُ اَکْبَرُ، اللّٰہُ اَکْبَرُ، لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، اللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔

’’ اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ‘‘

تلبیہ ہو یا تکبیر، یہ دراصل اللہ کی کبریائی کا اعلان ہے۔ اس طرح بندۂ مومن کو یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ ہر حال میں نہ صرف اپنے دل میں اللہ کی عظمت کا احساس پیدا کرے، بلکہ زبان سے بھی اس کا اظہار کرے۔

اجتماعیت کا مظاہرہ

حج کا موقع ہو یا عید الاضحی کی نماز کا، ان سے اہل ایمان کی اجتماعیت کا مظاہرہ ہوتاہے۔ حج میں پوری دنیا کے مسلمان اکٹھا ہوتے ہیں۔ وہ مختلف ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اس موقع پرسارے امتیازات مٹ جاتے ہیں۔ سب دوش بدوش ہوکر تمام مناسک ادا کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر بھی مسلمان بڑی تعداد میں عیدگاہ یا بڑی مساجد میں اکٹھا ہوکر نماز ادا کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیتے تھے، چاہے وہ بچیاں ہوں یا دوشیزہ یا بوڑھی، پاکی کی حالت میں ہوں یا ناپاکی کی حالت میں۔ آپ ؐ فرماتے تھے کہ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں گی، لیکن وہ خیر کی مجالس اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک رہیں گی۔ ( بخاری ۳۲۴، مسلم: ۸۹۰) اس حکم کا مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کی شوکت کا اظہار ہو، وہ ایک دوسرے سے ملیں جلیں، ان کے احوال سے واقف ہوں، ان سے ہمدردی کا اظہار کریں اور ان کی غم خواری کریں۔

قربانی

عید الاضحی کے موقع پر سب سے اہم عمل ’ قربانی‘ ہے۔ یہ اصلاً اس قربانی کی یادگار ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اشارۂ الٰہی پاکر اپنے بیٹے اسماعیل کی کرنی چاہی تھی، بعد میں اللہ کے اِذن سےانھوں نے حضرت اسماعیل ؑ کی جگہ ایک مینڈھے کی قربانی کی تھی۔ اس وقت سے یہ سنت جاری ہوگئی اور اللہ کی خوش نودی کے لیے جانور قربان کرنا ایک مشروع اور مسنون عمل قرار پایا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ (الکوثر: ۲) ’’ پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘

احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے قربانی کی ہے۔ (بخاری: ۵۵۶۴) چنانچہ یہ عمل سنت اور بعض علماء کے نزدیک واجب قرار پایا اور مسلمان برابر اس پر عمل کررہے ہیں۔

ایک مسلمان عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرکے درحقیقت اس عہد کا اظہار کرتا ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرے گا، اس کی مرضیات پر چلے گا اور وقت ضرورت کسی طرح کی قربانی سے گریز نہیں کرے گا۔یہی قربانی کا مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلاَ دِمَاؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ۔ (الحج: ۳۷)

’’ نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اسے تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘

احکام الٰہی پر من و عن عمل مطلوب ہے

موجودہ دور میں بعض حضرات حج اور قربانی پر اعتراضات کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حج میں لاکھوں مسلمان دنیا کے کونے کونے سے مکہ مکرمہ میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ سفر کی صعوبتوں کے علاوہ ایک جگہ پر بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے اکٹھا ہونے سے انتظامی مسائل پیداہوتے ہیں، حادثات ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ قربانی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اس عمل سے بے شمار جانوروں کا ضیاع ہوتا ہے اور اس سے سنگ دلی اور بے رحمی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اگر حج اور قربانی میں صرف ہونے والے کروڑوں اربوں روپے انفرادی یا اجتماعی طور پر رفاہی کاموں میں خرچ کیے جائیں تو اس سےبہت سے فائدے حاصل ہوں گے۔

سوچنے کا یہ انداز صحیح نہیں ہے۔گویا انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے انجام دیے جانے والے تمام کام حج اور قربانی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ ان پر پابندی عائد کرنے یامحدود کرنے سے وہ کام تیزی سے ہونے لگیں گے۔

دین کے تمام احکام پر من و عن عمل مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حج اور قربانی کا حکم دیا ہے اور خدمت خلق کی بھی تاکید کی ہے۔ اہل ایمان سے دونوں اعمال مطلوب ہیں۔ کسی عمل کو ترک کیا جاسکتا ہے نہ ایک کو دوسرے پر ترجیح دی جاسکتی ہے۔ ہاں بار بار حج یا عمرہ کرنے اور قربانی میں دکھاوا کےلیے مہنگے جانور خریدنے کو فقہاء نے ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

Check Also

’تحقیقات اسلامی‘ کا سینتیس (37) سالہ سفر

بر صغیر ہندو پاک کے معیاری، علمی اور تحقیقی مجلوں میں ’تحقیقات اسلامی‘ کو تاج …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے