صفحہ اول / Articles / عید کی نماز کیسے پڑھیں؟

عید کی نماز کیسے پڑھیں؟

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

       ماہ رمضان المبارک ختم ہونے میں 15 دن باقی ہیں، لیکن ابھی سے لوگ کثرت سے سوال کرنے لگے ہیں کہ اس بار لاک ڈاؤن کی وجہ سے مساجد میں نماز پڑھنے پر پابندی ہے تو عید کی نماز کیسے پڑھی جائے گی؟ یہ نمازِ عید الفطر سے ان کی دل چسپی کی دلیل ہے۔

        نماز عید الفطر سنّتِ مؤکدہ (احناف کے نزدیک واجب) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پابندی سے اسے ادا کیا ہے اور مسلمانوں کو اس کی ادائیگی کی بہت تاکید کی ہے۔ آپ آبادی سے باہر عید گاہ تشریف لے جاتے تھے اور تمام مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیتے تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عام حالات میں تمام مسلمانوں کو نمازِ عید کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔

        ہماری دعا ہے کہ حالات جلد از جلد نارمل ہوں اور عید الفطر کی نماز مساجد میں ادا کرنے کا موقع ملے۔ لیکن اگر لاک ڈاؤن کی مدّت مزید طویل ہو، جس کی وجہ سے عید گاہ، جامع مسجد یا پنج وقتہ نمازوں کی مسجد میں نمازِ عید نہ پڑھی جاسکے، تو کیا گھروں میں پڑھی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو اس کا طریقہ کیا ہو؟ اس تعلق سے ذیل میں چند باتیں عرض کی جارہی ہیں۔

         نفل نمازوں میں سے ایک نمازِ چاشت (صلاۃ الضحٰی) ہے۔ اس کا وقت طلوعِ آفتاب کے کچھ دیر کے بعد سے زوال تک ہے۔ احادیث میں اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ بعض احادیث میں 2 رکعت اور بعض میں 4 رکعت کا ذکر ہے۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے'صدقہ' کی مختلف صورتوں کا تذکرہ کیا۔ آخر میں فرمایا : وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى "(مسلم :720) " اس کی جگہ چاشت کے وقت دو رکعتیں بھی کافی ہیں۔ "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :" میرے محبوب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم) نے مجھے دو رکعت نماز چاشت پڑھنے کی تاکید کی ہے۔ " (مسلم:721) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :" رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کم از کم 4 رکعت چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ "(مسلم:719)

        کتبِ فقہ میں ایک بحث یہ ملتی ہے کہ اگر کسی شخص کی نمازِ عید چھوٹ جائے تو وہ کیا کرے؟ فقہاء نے لکھا ہے کہ اسے نمازِ چاشت ادا کرلینی چاہیے۔ موجودہ صورت حال کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔

          بعض فقہاء (مالکیہ و شوافع) کی رائے ہے کہ گھر پر نمازِ عید ادا کرنے والا صرف دو رکعت پڑھے گا، جیسے عید کی نماز ہوتی ہے اور اس میں وہ نمازِ عید کے مثل زائد تکبیرات کہے گا۔ اس کی دلیل بعض صحابہ کا عمل ہے۔ ایک مرتبہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی نمازِ عید چھوٹ گئی تو انھوں نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا اور نمازِ عید کے مثل تکبیرات کے ساتھ 2 رکعت نماز ادا کی۔ (بیہقی، فتح الباری)

       جب کہ بعض فقہاء (احناف) کہتے ہیں کہ وہ چار رکعت نماز ادا کرے گا۔ اس کی دلیل بعض صحابہ کے عمل سے فراہم ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے :"جس شخص کی نماز عید چھوٹ جائے وہ 4 رکعت نماز پڑھے۔ " حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو حکم دیا کہ جو بوڑھے لوگ عید گاہ نہ جاسکے ہوں انہیں مسجد میں جمع کرے اور انہیں 4 رکعت نماز پڑھائے۔

        اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے نمازِ عید مسجد میں نہ پڑھی جاسکے تو گھر پر 2 رکعت یا 4 رکعت باجماعت پڑھ لینی چاہیے۔

         نماز عید الفطر کا ایک حصہ خطبہ ہے۔ نمازِ جمعہ کے برخلاف عید میں خطبہ نماز کے بعد دیا جاتا ہے۔ گھروں میں ( نمازِ عید کے بجائے) صلاۃ الضحٰی (نمازِ چاشت) پڑھنے کی صورت میں خطبہ دینے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

قرآن مجید اور ہمارا رویّہ

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی اندھیری رات ہو، جھکّڑ چل رہے ہوں، راستہ ٹیڑھا میڑھا …

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.