Home / Articles / قرآن مجید اور ہمارا رویّہ

قرآن مجید اور ہمارا رویّہ

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

اندھیری رات ہو، جھکّڑ چل رہے ہوں، راستہ ٹیڑھا میڑھا اور نا ہموار ہو، جھاڑ جھنکاڑ کی وجہ سے سانپ بچھّو اور دیگر موذی جانوروں اور حشرات الارض کا     ہر وقت کھٹکا لگا ہو۔ ایسے میں ایک شخص چ لا جارہا ہو، اس کے ہاتھ میں ٹارچ ہو، لیکن اسے اس نے بجھا رکھا ہو۔ اس شخص کی بے وقوفی پر ہم میں سے ہر ایک کو ہنسی آئے گی۔ وہ ٹارچ جلاکر اپنا راستہ دیکھ سکتا ہے، راہ کی ناہمواریوں میں گرنے پڑنے سے بچ سکتا ہے، موذی جانوروں سے اپنی حفاظت کرسکتا ہے، لیکن اس کی مت ماری گئی ہے کہ وہ ٹارچ جیسی مفید چیز اپنے پاس ہوتے ہوئے اس سے فائدہ نہیں اٹھارہا ہے، اسے بجھا رکھا ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔

ایسے بے وقوف شخص پر ہم جتنا چاہیں ہنس لیں، لیکن حقیقت میں ٹھیک ایسا ہی رویّہ ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے۔ ہم مصائب و مشکلات کا شکار ہیں۔ دشمن ہم پر شیر ہیں اور ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے طرح طرح کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ہمیں صحیح راہِ عمل سجھائی نہیں دے رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں قرآن مجید کی شکل میں ہمارے پاس ایک روشنی موجود ہے، جس سے ہم گھٹا ٹوپ تاریکیاں دور کرسکتے ہیں، اپنی مشکلات و مسائل کا ازالہ کرسکتے ہیں، اس کی رہ نمائی میں ترقی اور کام یابی کی منزلیں طے کرسکتے ہیں۔ لیکن ہم نے اسے گل کر رکھا ہے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھارہے ہیں۔

قرآن مجید نور ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے ’نور‘ ہونے کاتذکرہ متعدد مقامات پر کیا ہے۔ (ملاحظہ کیجیے النساء: ۱۷۴، الشوریٰ: ۵۲)۔ ایک جگہ ارشاد ہے:

قَدْ جَآئَ کُم مِّنَ اللّٰہِ نُورٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ۔ یَّہْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخْرِجُہُم مِّنِ الظُّلُمٰتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیْہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (المائدۃ:۱۵-۱۶)

’’تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور آگیاہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو، جو اس کی رضا کے طالب ہیں، سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف ان کی رہ نمائی کرتا ہے۔ ‘‘

اس آیت میں اہل ِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کو خطاب کرتے ہوئے انھیں ’نور‘ اور ’کتاب مبین‘ آنے کی خوش خبری دی گئی ہے۔ ’نور‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین سے دو اقوال مروی ہیں : بعض مفسرین نے اس سے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی مراد لی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ’قرآن‘ مجید مراد ہے۔ پھر آگے ’کتاب مبین‘ بھی کہا گیا ہے۔ اس سے تکرار لازم آتی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے لکھا ہے:

’’نور سے مراد قرآن مجید ہے اور کتاب مبین کا لفظ بہ طور تفسیر ہے۔ قرآن مجید حکمت اور شریعت دونوں کا مجموعہ ہے۔ وہ ذہنی تاریکیوں سے بھی نکالتا ہے اور زندگی کے لیے عمل کی صحیح شاہ راہ بھی متعین کرتا ہے۔ اس رو سے وہ نور بھی ہے اور کتاب مبین بھی۔ ‘‘

                                   (تدبر قرآن: ۲؍۴۸۱)

ذلّت و نکبت کا سبب اللہ کی کتاب سے دوری

قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ جب انھوں نے اللہ کی کتاب کو اپنا ہادی و رہ نما بنایا، اسے سینے سے لگائے رکھا، اس سے روشنی حاصل کرتی رہیں، اس کے احکام و فرامین کو اپنی زندگیوں میں نافذ کیا اور ان پر عمل پیرا رہیں اس وقت تک کام یابی و  کام رانی نے ان کے قدم چومے اور ان کی عظمت و رفعت مسلّم رہی، لیکن جب ان کا رشتہ اللہ کی کتاب سے کم زور ہوا، انھوں نے اسے پسِ پشت ڈال دیا اور احکام الٰہی پر عمل کرنے کے بجائے نفسانی خواہشات، ذاتی مفادات اور رسم و رواج پر عمل کرنے لگیں تو ان کی ہوا اکھڑ گئی، ان کا شیرازہ منتشر ہوگیا، ان کا رعب و دبدبہ اور سطوت و ہیبت کافور ہوگئی، ذلّت و نکبت اور پس ماندگی و شکست خوردگی ان کا مقدّر بن گئی۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

          اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِہٰذا الکِتاب اَقْوَاماً وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ

                                              (صحیح مسلم، ۸۱۷)

’’اللہ اس کتاب کی وجہ سے کچھ قوموں کو بلندی عطا کرتا ہے اور کچھ قوموں کو پستی میں ڈھکیل دیتا ہے‘‘۔

کتاب اللہ کی وجہ سے بلندی عطا کیے جانے کا یہی مطلب ہے کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کے احکام و ہدایات پر عمل کرتی ہے وہ ترقی کے بام ِ عروج تک پہنچتی ہے، اسے دوسری قوموں کے درمیان بلند مقام حاصل ہوتا ہے اور وہ عظمت کے مدارج طے کرتی ہے، لیکن جو قوم اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایات سے بے پروا ہوتی ہے، تنزلی اس کا مقدّر ہوتی ہے اور دوسری قوموں کے مقابلے میں وہ پستی اور ذلت کا شکار ہو جاتی ہے۔

اہلِ کتاب کا انجامِ بد

یہ اللہ تعالیٰ کی سنّتِ جاریہ ہے۔ انسانی تاریخ میں اہلِ کتاب( یہود اور نصاریٰ) کا اللہ کی کتاب کے ساتھ رویہ اور ان کا انجامِ بد اس کی واضح مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا تھا کہ انھیں جو کتاب دی گئی ہے اس کی تعلیمات کو عام کریں گے:

وَإِذْ أَخَذَ اللّٰہُ مِیْثٰقَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُونَہُ         (آل عمران: ۱۸۷)

’’ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمھیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انھیں پوشیدہ نہیں رکھنا ہوگا‘‘۔

 اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اس نے ان کے پاس اپنی جو کتابیں بھیجی ہیں، اگرانھیں وہ مضبوطی سے تھامے رہے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو اخروی نجات و فلاح کے ساتھ دنیا میں بھی کام یاب و بامراد اور سرخ رو رہیں گے:

وَلَوْ أَنَّہُمْ أَقَامُواْ التَّوْرٰۃَ وَالإِنجِیْلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْہِم مِّن رَّبِّہِمْ لأکَلُواْ مِن فَوْقِہِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِہِم (المائدۃ:۶۶)

’’اگر انھوں نے توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں، تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا‘‘

لیکن انھوں نے اس عہد کی پاس داری نہیں کی۔ انھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور اس کی کتاب میں تحریف کر ڈالی۔ اس کے جن احکام اور تعلیمات کی زد  ان کی نفسانی خواہشات پر پڑتی تھی، انھیں خارج کر دیا اور جو باتیں ان کی مرضی اور خواہش کے مطابق اس میں نہیں تھیں ان کا اضافہ کر دیا۔ اس کی بعض تعلیمات، جن سے ان کے مفادات متاثر ہوتے تھے، انھیں دوسروں سے چھپایا اور ان کا اظہار کرنے سے گریز کیا۔ اللہ کی کتاب کو پڑھتے ہوئے زبان کے الٹ پھیر سے بعض الفاظ کو ایسا بگاڑا کہ ان کے مقصود معانی سے ہٹ دوسرے معانی کی طرف ذہن منتقل ہوجائے اور سننے والا یہ سمجھ بیٹھے کہ اللہ کی کتاب میں فلاں بات کہی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کی آیات کی من مانی تاویلات کیں اور انھیں خود ساختہ معانی کا جامہ پہنایا۔ اس کے نتیجے میں وہ اللہ کی لعنت اور غضب کا شکار ہوئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوکر رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَوَیْْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُونَ الْکِتٰبَ بِأَیْْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُولُونَ ہٰـذَا مِنْ عِندِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُواْ بِہِ ثَمَناً قَلِیْلاً فَوَیْْلٌ لَّہُم مِّمَّا کَتَبَتْ أَیْْدِیْہِمْ وَوَیْْلٌ لَّہُمْ مِّمَّا یَکْسِبُونَ    (البقرۃ: ۷۹)

’’پس ہلاک اور تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشہ لکھتے ہیں، پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے، تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں۔ ان کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجب ہلاکت ہے‘‘۔

وَضُرِبَتْ عَلَیْْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآ ئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّہِ ذٰلِکَ بِأَنَّہُمْ کَانُواْ یَکْفُرُونَ بِآیٰتِ اللَّہِ وَیَقْتُلُونَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَواْ وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَ (البقرۃ:۶۱)

’’آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلّت و خواری اور پستی و بد حالی ان پر مسلّط ہوگئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھر گئے۔ یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے۔ یہ نتیجہ تھا ان کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدودِ شرع سے نکل نکل جاتے تھے‘‘

قرآن مجید اور مسلمان

اللہ تعالیٰ کی یہ سنت مسلمانوں کے معاملات میں بھی جاری وساری ہے۔ قرن ِ اول کے مسلمان اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے، چنانچہ عزت و عظمت کی بلندیوں کو چھوتے رہے، لیکن جب بعد کے مسلمانوں نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا تو ذلت و خواری کے گڑھے میں جا گرے، دوسری قومیں ان پر شیر ہو گئیں اور اس طرح ٹوٹ پڑیں جس طرح بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

          اسی مفہوم کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے اس شعر میں ادا کیا ہے   ع

وہ  زمانے  میں  معزز  تھے  مسلماں  ہو کر

اور  تم  خوار  ہوئے  تارکِ  قرآں  ہوکر

مسلمان قرآن مجید کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے گہری عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ اسے اپنی مقدّس مذہبی کتاب سمجھتے ہیں اور اس کی ادنیٰ سی بھی توہین برداشت نہیں کرتے۔ اگر کوئی شخص قرآن کے خلاف بدزبانی کرتا ہے، یا  اس کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو ان کا جوشِ انتقام دیدنی ہوتا ہے۔ وہ اس پر بے چین ہوجاتے ہیں، اس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتے ہیں، اسے سزا دینے یا دلانے کی ہر ممکن جدّو جہد کرتے ہیں اور اس کے لیے اپنی جان دینے پر تیار رہتے ہیں۔ ان کا یہ  جذبۂ عقیدت قابل قدرِ و تحسین ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا عملی رویّہ قرآن سے بے اعتنائی کا ہوتا ہے۔ قرآن کا ان کی اپنی ذات سے کیا تعلق ہے؟ وہ ان کی زندگیوں میں کیسی تبدیلی لانا چاہتا ہے؟ وہ کیسا انسان بنانا چاہتا ہے؟ ان سوالات پر وہ مطلق غور نہیں کرتے۔ ان کے اس تضاد کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ’’مسلمان قرآن پر مرنا جانتے ہیں، لیکن اس پر جینا نہیں جانتے‘‘۔

مسلمانوں کے مختلف رویے

قرآن مجید کے بارے میں مسلمانوں کے مختلف رویے سامنے آتے ہیں۔ سطورِ ذیل میں ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے:

۱-محض عقیدت کا اظہار

 آج مسلمانوں کی اکثریت کا عملاً قرآن سے اگر کچھ تعلق نظر آتا ہے تو بس یہ کہ وہ اسے اپنے گھروں میں ریشمی جزدانوں میں لپیٹ کر الماریوں میں سجا کر رکھتے ہیں، مختلف امراض کے علاج کے لیے اس کی آیتوں کے تعویذ بناکر گلے میں باندھتے اور دھوکر پیتے ہیں، جنّات اور بھوت پریت بھگانے کے لیے اسے پڑھ کر پھونکتے ہیں، تنازعات کی صورت میں اس پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتے ہیں، دوکانوں اور مکانوں کی برکت کے لیے قرآنی آیات کے طغرے لگاتے ہیں اورکسی خوشی یا غم کے موقع پر  قرآن خوانی کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ مولانا ماہر القادری نے بڑے پرسوز انداز میں مسلمانوں کے اس رویّہ کا شکوہ کیا ہے۔ ان کی مشہور نظم’قرآن کی فریاد‘ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں :

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں

تعویذ بنایا جاتا ہوں، دھو دھوکے پلایا جاتاہوں

جزداں حریر و ریشم کے اور پھول ستارے چاندی کے

پھر عطر کی بارش ہوتی ہے، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں

جس طرح سے طوطا مینا کو، کچھ بول سکھائے جاتے ہیں

اس طرح پڑھایا جاتا ہوں، اس طرح سکھایا جاتا ہوں

جب قول و قسم لینے کے لیے، تکرار کی نوبت آتی ہے

پھر میری ضرورت پڑتی ہے، ہاتھوں پہ اٹھایا جاتا ہوں

۲۔ بغیر سمجھے قرآن کی تلاوت    

بہت سے مسلمان ہیں جو قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں، روزانہ اس کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں، ماہ رمضان المبارک میں اس کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے، جب حفّاظ کرام قرآن سنانے کے لیے کمربستہ ہوجاتے ہیں اور عام مسلمان تراویح میں، اپنی نفل نمازوں میں اور نمازوں کے علاوہ بھی اپنا زیادہ تر وقت قرآن پڑھنے میں لگاتے ہیں، لیکن ان کا یہ پڑھنا بے سمجھے بوجھے محض حصولِ ثواب کی نیت سے ہوتا ہے۔ کیا بے سمجھے بوجھے قرآن پڑھنا مطلوب ہے؟ کیا یہی اس کے نزول کا مقصد ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ اس میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان پر عمل کیا جائے، جن کاموں کا حکم دیا گیا ہے انہیں بجالایا جائے اورجن کاموں سے روکا گیا ہے ان سے دور رہا جائے۔ بہت سے مسلمان زیادہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ختم پر ختم کیے چلے جاتے ہیں، مگر اس پہلو کی جانب ذرا بھی توجہ نہیں کرتے۔ اس رویّہ پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بڑا لطیف طنز کیا ہے۔ فرماتے ہیں :

’’ بتائیے، اگر کوئی شخص بیمار ہو اور علم طب کی کوئی کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ جائے اور یہ خیال کرے کہ محض اس کتاب کو پڑھ لینے سے بیماری دور ہوجائے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ کیا آپ نہ کہیں گے کہ بھیجو اسے پاگل خانے میں، اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے؟ مگر شافیٔ مطلق نے جو کتاب آپ کے امراض کا علاج کرنے کے لیے بھیجی ہے اس کے ساتھ آپ کا یہی برتاؤ ہے۔ آپ اس کو پڑھتے ہیں او ریہ خیال کرتے ہیں کہ بس اس کے پڑھ لینے ہی سے تمام امراض دوٗر ہوجائیں گے، اس کی ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں، نہ ان چیزوں سے پرہیز کی ضرورت ہے جن کو یہ مضر بتارہی ہے۔ پھر آپ خود اپنے اوپر بھی وہی حکم کیوں نہیں لگاتے جو اس شخص پر لگاتے ہیں جو بیماری دور کرنے کے لیے صرف علم طب کی کتاب، پڑھ لینے کو کافی سمجھتا ہے‘‘

             (خطبات، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ۲۰۰۶ء، ص:۴۱-۴۲)

یہ کہنا تو شاید درست نہ ہو کہ بغیر سمجھے قرآن پڑھنے کا کوئی اجر نہیں، لیکن جب نزول ِ قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے احکام سے واقفیت حاصل کی جائے، پھر اس پر عمل کیا جائے تو قرآن کو سمجھے بغیر یہ مقصد کیسے پورا ہو سکتا ہے؟ عالَمِ عرب کے ایک بڑے عالم ِ دین شیخ محمد صالح المنجد نے لکھا ہے:

          ’’قرآن پڑھنے والے کو اجر ملے گا، چاہے وہ اس کا معنیٰ سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو، لیکن مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ قرآن پڑھنے اور اس کا معنیٰ سمجھنے کی کوشش نہ کرے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص طب کی کتابیں پڑھے تو اس کے لیے ان کتابوں سے استفادہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ ان کو سمجھ کر نہ پڑھ سکے۔ وہ انھیں سمجھنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ پھر اللہ کی کتاب، جو دلوں کے لیے شفا اور لوگوں کے لیے نصیحت ہے، اس کے ساتھ یہ معاملہ کیوں  کہ اس کو بغیر سمجھے اور بغیر اس میں تدبر کیسے پڑھا جائے‘‘۔ (http://islamqa.info/ar/4040)

۳۔ عمل پر آمادگی سے محرومی

بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو قرآن کی تلاوت بھی کرتے ہیں، اس میں غور و تدبر بھی کرتے ہیں۔ وہ جانتے بھی ہیں کہ قرآ ن مجید میں کیا احکام بیان کیے گئے ہیں ؟کن چیزوں کو حلال اور کن چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے؟کن کاموں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کن کاموں سے روکا گیا ہے؟مگر ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوئی تحریک ان میں نہیں ہوتی۔ ان کا عمل قرآنی تعلیمات کی تردید کرتاہوا نظر آتا ہے۔ مثلاًقرآن نے انھیں اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے اور انتشار و تفرقہ سے بچنے کی تاکید کی تھی، مگر آج باہمی اختلافات ان کی پہچان ہیں۔ وہ مسالک، جمعیتوں، تنظیموں اور گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان کے یہ اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ بات ایک دوسرے کی تفسیق تک جا پہنچتی ہے۔ اس نے انھیں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے، برے القاب سے پکارنے، بدگمانی رکھنے، ٹوہ میں لگنے اور غیبت کرنے سے روکا تھا، مگر آج ان میں یہ تمام اخلاقی برائیاں در آئی ہیں۔ اس نے انھیں ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتے ہوئے سماجی مساوات کا درس دیا تھا، مگر آج غیر قوموں کی طرح ان کا سماج بھی ذات پات کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے اور کچھ لوگوں کو اشراف اور کچھ کو اراذل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس نے لین دین، تجارت اور دیگر معاملات میں شفّافیت برتنے کی تاکید کی تھی، لیکن دھوکہ دہی، فریب کاری، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی  اور بد معاملگی کی فیگر صورتیں اب ان کے لیے اجنبی نہیں رہ گئی ہیں۔ اس نے شراب نوشی اور نشہ خوری کو حرام قرار دیا تھا، لیکن کتنے مسلم نوجوان ہیں جو اس لَت میں مبتلا ہیں۔ اس نے سود کو حرام قرار دیا تھا، مگر آج ان کی معیشت سودی لعنت کا شکار ہے۔ اس طرح کے اور بھی کتنے قرآنی احکام ہیں جنھیں مسلمان جانتے بوجھتے پامال کر رہے ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے بہت مؤثر اسلوب میں اس رویّہ پر تنقید کی ہے۔ فرماتے ہیں :

’’آپ اس نوکر کے متعلق کیا کہیں گے جو آقا کی مقرر کی ہوئی ڈیوٹی پر جانے کے بجائے ہر وقت بس اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا رہے اور لاکھوں مرتبہ اس کا نام جپتا چلا جائے۔ آقا اس سے کہتا ہے کہ جا کر فلاں فلاں آدمیوں کے حق ادا کر، مگر یہ جاتا نہیں، بلکہ وہیں کھڑے کھڑے آقا کوجھک جھک کر دس سلام کرتا ہے اور پھر ہاتھ باندھ کرکھڑا ہو جاتا ہے۔ آقا اسے حکم دیتا ہے کہ جا  اور فلاں فلاں خرابیوں کو مٹا دے، مگر یہ ایک انچ وہاں سے نہیں ہٹتا اور سجدے پر سجدے کیے چلا جاتا ہے۔ ۔ ۔ اگرآپ کا کوئی ملازم یہ رویّہ اختیار کرے تو میں نہیں جانتا ہوں کہ آپ اسے کیا کہیں گے؟ مگر حیرت ہے آپ پر کہ خدا کا جو نوکر ایسا کرتا ہے آپ اسے بڑا عبادت گزار کہتے ہیں !یہ ظالم صبح سے شام تک خدا جانے کتنی مرتبہ قرآن شریف میں خدا کے احکام پڑھتا ہے، مگر ان احکام کوبجا لانے کے لیے اپنی جگہ سے جنبش تک نہیں کرتا، بلکہ نفل پر نفل پڑھے جاتا ہے، ہزار دانہ تسبیح پر خدا کا نام جپتا ہے اور خوش الحانی کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا رہتا ہے۔ آپ اس کی یہ حرکتیں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیسا زاہد عابد بندہ ہے!‘‘(خطبات، ص۱۱۸)

۴۔ احکام ِقرآنی کی بے جا تاویلات

کچھ مسلمان ایسے بھی ہیں جو قرآن مجید کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کے بجائے اس کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ آیات ِ قرآنی کی دور از کار تاویلیں کرتے ہیں، ان سے ایسے ایسے معانی مستنبط کرتے ہیں جن سے قرآن کا دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ مثلاًقرآن نے غیر اللہ کے آگے سجدہ کو حرام قرار دیا ہے اور اسے شرک قرار دے کر ایسا کرنے والے کو جہنم کی وعید سنائی ہے، لیکن وہ مزاروں اور درگاہوں میں قبروں کے سامنے ناصیہ فرسائی کرتے ہیں اور اسے سجدہ تعظیمی کا نام دیتے ہیں۔ قرآن نے ہر طرح کا سود حرام قرار دیا ہے، مگر وہ کہتے ہیں کہ اس نے صرف مہاجنی سود کو حرام کیا ہے، بینک انٹرسٹ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ قرآن نے عورتوں کے لیے پردہ کے مخصوص احکام دیے ہیں، مگر وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں پردہ کے احکام عہد نبوی میں صرف ازواج مطہرات کے ساتھ خاص تھے، عام مسلمان عورتیں ان کی مخاطب نہ اس عہد میں تھیں نہ اب ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں جا بہ جا ایسے مسلمانوں کے رویّہ پر تنقید کی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں :

احکام  ترے  حق  ہیں  مگر  اپنے  مفسر

تاویل  سے  قرآں  کو  بنا  سکتے  ہیں  پازند

(پازندپارسیوں کی مذہبی کتاب کو کہتے ہیں )

اسی  قرآن  میں  ہے  ترکِ جہاں  کی  تعلیم

جس  نے  مومن  کو  بنایا  مہ و پرویں  کا  امیر

قرآن  کو     بازیچہ ٔ    تاویل    بنا    کر

    چاہے  تو  خود  اک  تازہ  شریعت کرے  ایجاد

  خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے  ہیں

     ہوئے  کس   درجہ   فقیہانِ   حرم   بے   توفیق

قرآن مجید سے رہ نمائی حاصل کریں      

مسلمان جب تک اپنے رویّوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے ان کے حالات نہیں بدل سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے۔ اس کی سنت غیر مبدّل ہے۔ گزشتہ قوموں کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جس قوم نے اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھاما، اسے اپنا دستورِ حیات بنایا وہ بامِ عروج پر پہنچی، اسے دنیاوی ترقی بھی حاصل ہوئی اور دوسری قوموں نے اس کی قیادت و سیادت تسلیم کی، لیکن جس قوم نے اللہ کی کتاب کو فراموش کیا، اس سے غفلت برتی، اسے پسِ پشت ڈالا اور اس پر عمل نہیں  کیا وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئی اور پستی کے گڈھے میں جاگری۔ اس سنّتِ الٰہی کا اطلاق مسلمانوں پر بھی ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم مسلمان قرآن مجید کی طرف پلٹیں، اسے اپنا رہ نما بنائیں، اس میں زندگی کے مسائل کا حل تلاش کریں، اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مرضی جاننے کی کوشش کریں، اس میں جن چیزوں کا حکم ملے ان پر عمل کریں اور جن چیزوں سے  روکا گیا ہے ان سے رک جائیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو دنیا میں عزت و عظمت اور شان و شوکت سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں اور آخرت میں سرخ روئی حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العلمین

٭٭٭

Check Also

سماجی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سورئہ احزاب کی ایک آیت ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ …

One comment

  1. Allah aap ki salahiyton me mazeed izafa ata farmaye,

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے